صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
26. بَابُ كَرَاهِيَةِ الْخِلاَفِ:
باب: احکام شرع میں جھگڑا کرنے کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 7364
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سَلَّامِ بْنِ أَبِي مُطِيعٍ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ جُنْدَبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اقْرَءُوا الْقُرْآنَ مَا ائْتَلَفَتْ قُلُوبُكُمْ، فَإِذَا اخْتَلَفْتُمْ فَقُومُوا عَنْهُ"، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ سَمِعَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ سَلَّامًا.
ہم سے اسحاق نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبدالرحمٰن بن مہدی نے خبر دی، انہیں سلام بن ابی مطیع نے، انہیں ابوعمران الجونی نے، ان سے جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب تمہارے دل ملے رہیں قرآن پڑھو اور جب تم میں اختلاف ہو جائے تو اس سے دور ہو جاؤ۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ/حدیث: 7364]
حضرت جندب بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تک تمہارے دل ملے رہیں قرآن کریم پڑھو اور جب تم میں اختلاف ہو جائے تو اس سے اٹھ کھڑے ہو۔“ ابو عبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے فرمایا: عبدالرحمن نے (راوی حدیث) سلام بن ابو مطیع سے سنا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ/حدیث: 7364]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7365
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ، عَنْ جُنْدَبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" اقْرَءُوا الْقُرْآنَ مَا ائْتَلَفَتْ عَلَيْهِ قُلُوبُكُمْ، فَإِذَا اخْتَلَفْتُمْ فَقُومُوا عَنْهُ"، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ وَقَالَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ هَارُونَ الْأَعْوَرِ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ، عَنْ جُنْدَبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبدالصمد بن عبدالوارث نے خبر دی، کہا ہم سے ہمام بن یحییٰ بصریٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعمران جونی نے اور ان سے جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب تک تمہارے دلوں میں اتحاد و اتفاق ہو قرآن پڑھو اور جب اختلاف ہو جائے تو اس سے دور ہو جاؤ۔“ اور یزید بن ہارون واسطی نے ہارون اعور سے بیان کیا، ان سے ابوعمران نے بیان کیا، ان سے جندب رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ/حدیث: 7365]
حضرت جندب بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قرآن پڑھتے رہو جب تک تمہارے دل اس پر لگے رہیں اور جب اختلاف ہو جائے تو اس سے کھڑے ہوجاؤ۔“ ابو عبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا: ”یزید بن ہارون واسطی نے ہارون اعور سے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے ابو عمران نے حضرت جندب رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح بیان کیا ہے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ/حدیث: 7365]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7366
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" لَمَّا حُضِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ وَفِي الْبَيْتِ رِجَالٌ فِيهِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، قَالَ: هَلُمَّ أَكْتُبْ لَكُمْ كِتَابًا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ، قَالَ عُمَرُ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَلَبَهُ الْوَجَعُ وَعِنْدَكُمُ الْقُرْآنُ، فَحَسْبُنَا كِتَابُ اللَّهِ وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْبَيْتِ وَاخْتَصَمُوا، فَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ: قَرِّبُوا يَكْتُبْ لَكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كِتَابًا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ: مَا قَالَ عُمَرُ، فَلَمَّا أَكْثَرُوا اللَّغَطَ وَالِاخْتِلَافَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قُومُوا عَنِّي، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: فَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: إِنَّ الرَّزِيَّةَ كُلَّ الرَّزِيَّةِ مَا حَالَ بَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ أَنْ يَكْتُبَ لَهُمْ ذَلِكَ الْكِتَابَ مِنَ اخْتِلَافِهِمْ وَلَغَطِهِمْ".
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام نے خبر دی، انہیں معمر نے، انہیں زہری نے، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا وقت قریب آیا تو گھر میں بہت سے صحابہ موجود تھے، جن میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی تھے اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آؤ میں تمہارے لیے ایک ایسا مکتوب لکھ دوں کہ اس کے بعد تم کبھی گمراہ نہ ہو۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آؤ میں تمہارے لیے ایک ایسا مکتوب لکھ دوں کہ اس کے بعد تم کبھی گمراہ نہ ہو۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تکلیف میں مبتلا ہیں، تمہارے پاس اللہ کی کتاب ہے اور یہی ہمارے لیے کافی ہے۔ گھر کے لوگوں میں بھی اختلاف ہو گیا اور آپس میں بحث کرنے لگے۔ ان میں سے بعض نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب (لکھنے کا سامان) کر دو۔ وہ تمہارے لیے ایسی چیز لکھ دیں گے کہ اس کے بعد تم گمراہ نہیں ہو گے اور بعض نے وہی بات کہی جو عمر رضی اللہ عنہ کہہ چکے تھے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لوگ اختلاف و بحث زیادہ کرنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے پاس سے ہٹ جاؤ۔ عبیداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہا کرتے تھے کہ سب سے بھاری مصیبت تو وہ تھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اس نوشت لکھوانے کے درمیان حائل ہوئے، یعنی جھگڑا اور شور۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ/حدیث: 7366]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا وقت قریب آیا تو گھر میں بہت سے صحابہ کرام موجود تھے۔ ان میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ (اس وقت) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آؤ، میں تمہارے لیے ایک تحریر لکھ دوں کہ اس کے بعد تم کبھی گمراہ نہیں ہو گے۔“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تکلیف میں مبتلا ہیں، تمہارے پاس قرآن موجود ہے اور ہمیں اللہ کی کتاب کافی ہے۔“ گھر کے لوگوں میں بھی اختلاف ہو گیا اور وہ آپس میں جھگڑنے لگے۔ کچھ کہنے لگے: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب (لکھنے کا سامان) کر دو، وہ تمہارے لیے ایسی تحریر لکھ دیں کہ اس کے بعد تم گمراہ نہیں ہو گے“ اور کچھ حضرات نے وہی بات کہی جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہہ چکے تھے۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس شور و غل اور اختلاف زیادہ ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس سے اٹھ جاؤ۔“ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کہا کرتے تھے: ”سب سے بھاری مصیبت تو یہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اس نوشت لکھوانے کے درمیان اختلاف اور جھگڑا حائل ہوا۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ/حدیث: 7366]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة