🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

891. (658) بَابُ ذِكْرِ عِلَّةِ لِمَا تَنْكَسِفُ الشَّمْسُ إِذَا انْكَسَفَتْ، إِنْ صَحَّ الْخَبَرُ،
سورج کو گرہن لگنے کی علت و سبب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1401M
فَإِنِّي لَا أَخَالُ أَبَا قِلَابَةَ سَمِعَ مِنَ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، وَلَا أَقِفُ أَلِقَبِيصَةَ الْبَجَلِيِّ صُحْبَةٌ أَمْ لَا؟
بشر طیکہ اس سلسلے میں مروی حدیث صحیح ہو، کیونکہ میرا خیال نہیں کہ جناب ابوقلابہ نے سیدنا نعمان بن بشر رضی اللہ عنہ سے سنا ہو اور مجھے یہ بھی معلوم نہیں ہو سکا کہ حضرت قبیصہ صحابی ہیں یا نہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أَبْوَابِ صَلَاةِ الْكُسُوفِ/حدیث: 1401M]
تخریج الحدیث: انظر الحديث السابق

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1402
قَالَ: ثنا بِخَبَرٍ قَبِيصَةُ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ قَبِيصَةَ الْبَجَلِيِّ ، قَالَ: إِنَّ الشَّمْسَ انْخَسَفَتْ، فَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ حَتَّى انْجَلَتْ، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ، وَلَكِنَّهُمَا خَلْقَانِ مِنْ خَلْقِهِ، وَيُحْدِثُ اللَّهُ فِي خَلْقِهِ مَا شَاءَ، ثُمَّ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِذَا تَجَلَّى لِشَيْءٍ مِنْ خَلْقِهِ خَشَعَ لَهُ، فَأَيُّهُمَا انْخَسَفَ فَصَلُّوا حَتَّى يَنْجَلِيَ أَوْ يُحْدِثَ لَهُ اللَّهُ أَمْرًا"
حضرت قبیصہ بجلی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سورج کو گرہن لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعات ادا کیں حتّیٰ کہ سورج روشن ہو گیا، پھر فرمایا: بلاشبہ سورج اور چاند کو کسی شخص کی موت کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا۔ لیکن یہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے دو مخلوقات ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں جو تبدیلی چاہتا ہے کرلیتا ہے پھر اللہ تعالیٰ جب اپنی مخلوق میں سے کسی چیز کے لئے تجلی فرماتے ہیں تو وہ عاجزی اور انکساری کا اظہار کرتی ہے۔ لہٰذا سورج اور چاند میں سے جسے بھی گرہن لگے تو ان کے روشن ہونے تک نماز پڑھو، یا اللہ تعالیٰ اس کے لئے کوئی نیا حُکم لے آئے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أَبْوَابِ صَلَاةِ الْكُسُوفِ/حدیث: 1402]
تخریج الحدیث: اسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1403
قَالَ أَبُو بَكْرٍ" وَأَمَّا خَبَرُ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ فَإِنَّ بُنْدَارًا حَدَّثَنَاهُ أَيْضًا، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ: انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ:" فَإِذَا تَجَلَّى اللَّهُ لِشَيْءٍ مِنْ خَلْقِهِ خَشَعَ لَهُ"
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں سورج گرہن لگا پھر راوی نے مکمّل حدیث بیان کی۔ اور یہ الفاظ بیان کیے پھر جب اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں کسی چیز کے لئے تجلی فرماتے ہیں تو وہ چیز اللہ تعالیٰ کے لئے عاجزی کا اظہار کرتی ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أَبْوَابِ صَلَاةِ الْكُسُوفِ/حدیث: 1403]
تخریج الحدیث: اسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1404
نَا بُنْدَارٌ ، نَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، نَحْوَ حَدِيثِ أَيُّوبَ
امام صاحب سیدنا نعمان رضی اللہ عنہ کی حدیث کی ایک اور سند بیان کرتے ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أَبْوَابِ صَلَاةِ الْكُسُوفِ/حدیث: 1404]
تخریج الحدیث: اسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں