صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَلِتُصْنَعَ عَلَى عَيْنِي} تُغَذَّى:
باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ طہٰ میں) موسیٰ علیہ السلام سے فرمانا کہ ”میری آنکھوں کے سامنے تو پرورش پائے“۔
حدیث نمبر: Q7407
وَقَوْلِهِ جَلَّ ذِكْرُهُ: {تَجْرِي بِأَعْيُنِنَا}.
اللہ تعالیٰ کا ارشاد (سورۃ القمر میں) «تجري بأعيننا» ”نوح کی کشتی ہماری آنکھوں کے سامنے پانی پر تیر رہی تھی۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: Q7407]
حدیث نمبر: 7407
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: ذُكِرَ الدَّجَّالُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" إِنَّ اللَّهَ لَا يَخْفَى عَلَيْكُمْ، إِنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِأَعْوَرَ، وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى عَيْنِهِ، وَإِنَّ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ أَعْوَرُ الْعَيْنِ الْيُمْنَى كَأَنَّ عَيْنَهُ عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے جویریہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دجال کا ذکر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ اللہ کانا نہیں ہے اور آپ نے ہاتھ سے اپنی آنکھ کی طرف اشارہ کیا اور دجال مسیح کی دائیں آنکھ کانی ہو گی، جیسے اس کی آنکھ پر انگور کا ایک اٹھا ہوا دانہ ہو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7407]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دجال کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کی ذات گرامی تم پر مخفی نہیں، اللہ تعالیٰ کانا نہیں۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اپنی آنکھ کی طرف اشارہ فرمایا: ”اور بلاشبہ مسیح دجال دائیں آنکھ سے کانا ہوگا جیسے اس کی آنکھ پر ایک ابھرا ہوا انگور کا دانہ ہو۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7407]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7408
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَا بَعَثَ اللَّهُ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا أَنْذَرَ قَوْمَهُ الْأَعْوَرَ الْكَذَّابَ إِنَّهُ أَعْوَرُ، وَإِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ".
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم کو قتادہ نے خبر دی، کہا میں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ نے جتنے نبی بھیجے ان سب نے جھوٹے کانے دجال سے اپنی قوم کو ڈرایا، وہ دجال کانا ہو گا اور تمہارا رب (آنکھوں والا ہے) کانا نہیں ہے، اس دجال کی دونوں آنکھوں کے درمیان لکھا ہوا ہو گا (لفظ) کافر۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7408]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے جتنے بھی نبی بھیجے ہیں ان سب نے اپنی قوم کو کانے کذاب سے ضرور خبردار کیا ہے۔ وہ (دجال) کانا ہے اور تمہارا رب کانا نہیں۔ دجال کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوا ہوگا۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7408]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة