🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1062. (111) بَابُ النَّهْيِ عَنْ تَطْوِيلِ الْإِمَامِ الصَّلَاةَ مَخَافَةَ تَنْفِيرِ الْمَأْمُومِينَ وَقُنُوتِهِمْ.
مقتدیوں کے متنفر ہونے اور ان کے فتنے میں مبتلا ہونے کے ڈر سے امام کا لمبی نماز پڑھانا منع ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1605
نا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، نا إِسْمَاعِيلُ ، نا قَيْسٌ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو. ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، نا الْمُعْتَمِرُ ، قَالَ: سَمِعْتُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ قَيْسٍ ، قَالَ: قَالَ لَنَا أَبُو مَسْعُودٍ عُقْبَةُ بْنُ عَمْرٍو، وَحَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، نا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، قَالَ: أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي لأَتَأَخَّرُ عَنْ صَلاةِ الْغَدَاةِ مِنْ أَجْلِ فُلانٍ، مِمَّا يُطِيلُ بِنَا، فَمَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشَدَّ غَضَبًا فِي مَوْعِظَةٍ مِنْهُ يَوْمَئِذٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَأَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ مِنْكُمْ لَمُنَفِّرِينَ، فَأَيُّكُمْ صَلَّى بِالنَّاسِ فَلْيَتَجَوَّزْ، فَإِنَّ فِيهِمُ الضَّعِيفَ وَالْكَبِيرَ وَذَا الْحَاجَةِ" . هَذَا حَدِيثُ بُنْدَارٍ
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو اُس نے عرض کی کہ بیشک میں فلاں شخص کی وجہ سے صبح کی نماز سے پیچھے رہتا ہوں، کیونکہ وہ ہمیں بڑی طویل نماز پڑھاتا ہے، تو میں نے اس دن سے زیادہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وعظ و نصیحت میں ناراض ہوتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے لوگو، بیشک تم میں سے کچھ لوگ دوسروں کو متنفر کرنے والے ہیں۔ تم میں سے جو شخص بھی لوگوں کو امامت کرائے تو وہ ہلکی نماز پڑھائے کیونکہ لوگوں میں کمزور، عمر رسیدہ اور حاجت مند افراد (بھی) ہوتے ہیں۔ یہ بندار کی حدیث ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جُمَّاعُ أَبْوَابِ قِيَامِ الْمَأْمُومِينَ خَلْفَ الْإِمَامِ وَمَا فِيهِ مِنَ السُّنَنِ/حدیث: 1605]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 90، 702، 704، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 466، وابن الجارود فى "المنتقى"، 356، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1605، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2137، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 5860، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1294، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 984، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5347، 5348، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17339»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں