🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1078. (127) بَابُ افْتِتَاحِ غَيْرِ الطَّاهِرِ الصَّلَاةَ نَاوِيًا الْإِمَامَةَ وَذِكْرُهُ أَنَّهُ غَيْرُ طَاهِرٍ بَعْدَ الِافْتِتَاحِ،
غیر طاہر شخص کا امامت کی نیت سے نماز شروع کرنا اور نماز شروع کرنے کے بعد اسے یاد آنا کہ وہ غیر طاہر ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q1628
وَتَرْكُهُ الِاسْتِخْلَافَ عِنْدَ ذَلِكَ لِيَنْتَظِرَ الْمَأْمُومُونَ رُجُوعَهُ بَعْدَ الطَّهَارَةِ فَيَؤُمُّهُمْ.
اس وقت اس کا کسی کو اپنا نائب نہ بنانا تاکہ مقتدی اس کی واپسی کا انتظار کریں اور وہ طہارت کے بعد انہیں امامت کرائے [صحيح ابن خزيمه/جُمَّاعُ أَبْوَابِ قِيَامِ الْمَأْمُومِينَ خَلْفَ الْإِمَامِ وَمَا فِيهِ مِنَ السُّنَنِ/حدیث: Q1628]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1628
نا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، نا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، نا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: أُقِيمَتِ الصَّلاةُ، وَعُدِّلَتِ الصُّفُوفُ قِيَامًا، فَخَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا قَامَ فِي مُصَلاهُ، ذَكَرَ أَنَّهُ جُنُبٌ، فَأَوْمَأَ إِلَيْنَا، وَقَالَ:" مَكَانَكُمْ". ثُمَّ دَخَلَ، فَاغْتَسَلَ، فَخَرَجَ فَصَلَّى بِنَا
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نماز کھڑی ہوگئی اور صفیں برابر ہوگئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، پھر جب آپ اپنی جائے نماز میں کھڑے ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یاد آیا کہ آپ جنبی ہیں۔ لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اشارہ کیا کہ تم اپنی اپنی جگہ پر کھڑے رہو۔ پھر آپ گھر تشریف لے گئے، غسل کیا، پھر تشریف لائے اور ہمیں نماز پڑھائی۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ حماد بن سلمہ اپنی سند سے سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز شروع کر دی تھی، پھر (یاد آنے پر) اُنہیں اشارہ کیا کہ اپنی اپنی جگہ پر کھڑے رہو، پھر آپ گھر چلے گئے۔ پھر آپ واپس تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز پڑھائی۔ [صحيح ابن خزيمه/جُمَّاعُ أَبْوَابِ قِيَامِ الْمَأْمُومِينَ خَلْفَ الْإِمَامِ وَمَا فِيهِ مِنَ السُّنَنِ/حدیث: 1628]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 275، 639، 640، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 605، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1628، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2236، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 791، وأبو داود فى (سننه) برقم: 235، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1220، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2321، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1361، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7358»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1629
قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي خَبَرِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ زِيَادٍ الأَعْلَمِ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ افْتَتَحَ الصَّلاةَ، ثُمَّ أَوْمَأَ إِلَيْهِمْ أَنْ مَكَانَكُمْ، ثُمَّ دَخَلَ، ثُمَّ خَرَجَ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ، فَصَلَّى بِهِمْ . نا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، نا يَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ . ح وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَيْضًا، حَدَّثَنَا عَفَّانُ . ح وَحَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، نا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، زَادَ الدَّوْرَقِيُّ: فَلَمَّا سَلَّمَ، أَوْ قَالَ: فَلَمَّا قَضَى صَلاتَهُ، قَالَ:" إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، وَإِنِّي كُنْتُ جُنُبًا"
جناب الدورقی نے سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں ان الفاظ کا اضافہ بیان کیا ہے کہ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا یا فرمایا، پھر جب آپ نے اپنی نماز مکمّل کی تو فرمایا: یقیناً میں بھی ایک انسان ہی ہوں (اس لئے بھول گیا) اور میں جنابت کی حالت میں تھا (اس لئے یاد آنے پر غسل کیا اور پھر نماز پڑھائی)۔ [صحيح ابن خزيمه/جُمَّاعُ أَبْوَابِ قِيَامِ الْمَأْمُومِينَ خَلْفَ الْإِمَامِ وَمَا فِيهِ مِنَ السُّنَنِ/حدیث: 1629]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1629، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2235، وأبو داود فى (سننه) برقم: 233، بدون ترقيم، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4133، 5231، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20748، 20754، 20789، والطحاوي فى (شرح مشكل الآثار) برقم: 623»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں