صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1078. (127) باب افتتاح غير الطاهر الصلاة ناويا الإمامة وذكره أنه غير طاهر بعد الافتتاح،
غیر طاہر شخص کا امامت کی نیت سے نماز شروع کرنا اور نماز شروع کرنے کے بعد اسے یاد آنا کہ وہ غیر طاہر ہے
حدیث نمبر: 1629
قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي خَبَرِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ زِيَادٍ الأَعْلَمِ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ افْتَتَحَ الصَّلاةَ، ثُمَّ أَوْمَأَ إِلَيْهِمْ أَنْ مَكَانَكُمْ، ثُمَّ دَخَلَ، ثُمَّ خَرَجَ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ، فَصَلَّى بِهِمْ . نا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، نا يَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ . ح وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَيْضًا، حَدَّثَنَا عَفَّانُ . ح وَحَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، نا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، زَادَ الدَّوْرَقِيُّ: فَلَمَّا سَلَّمَ، أَوْ قَالَ: فَلَمَّا قَضَى صَلاتَهُ، قَالَ:" إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، وَإِنِّي كُنْتُ جُنُبًا"
جناب الدورقی نے سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں ان الفاظ کا اضافہ بیان کیا ہے کہ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا یا فرمایا، پھر جب آپ نے اپنی نماز مکمّل کی تو فرمایا: ”یقیناً میں بھی ایک انسان ہی ہوں (اس لئے بھول گیا) اور میں جنابت کی حالت میں تھا (اس لئے یاد آنے پر غسل کیا اور پھر نماز پڑھائی)۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب قيام المأمومين خلف الإمام وما فيه من السنن/حدیث: 1629]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1629، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2235، وأبو داود فى (سننه) برقم: 233، بدون ترقيم، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4133، 5231، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20748، 20754، 20789، والطحاوي فى (شرح مشكل الآثار) برقم: 623»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1629 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1629
فوائد:
➊ اگر امام یا مقتدی کو مسجد میں پہنچنے کے بعد معلوم ہو کہ وہ حالتِ جنابت میں ہے، تو اسے فوراً مسجد سے نکل کر غسل کرنا چاہیے۔ پھر نماز میں شامل ہونا چاہیے۔ اس صورت میں تیمم کرنا جائز نہیں۔
➋ اگر امام کو مسجد میں آنے کے بعد یاد آئے کہ وہ جنبی ہے، تو اسے اپنا نائب مقرر نہیں کرنا چاہیے۔ بلکہ مقتدیوں کو امام کا انتظار کرنا چاہیے، تاوقتیکہ امام غسل سے فارغ ہو جائے۔
➊ اگر امام یا مقتدی کو مسجد میں پہنچنے کے بعد معلوم ہو کہ وہ حالتِ جنابت میں ہے، تو اسے فوراً مسجد سے نکل کر غسل کرنا چاہیے۔ پھر نماز میں شامل ہونا چاہیے۔ اس صورت میں تیمم کرنا جائز نہیں۔
➋ اگر امام کو مسجد میں آنے کے بعد یاد آئے کہ وہ جنبی ہے، تو اسے اپنا نائب مقرر نہیں کرنا چاہیے۔ بلکہ مقتدیوں کو امام کا انتظار کرنا چاہیے، تاوقتیکہ امام غسل سے فارغ ہو جائے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1629]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1629 in Urdu
يزيد بن هارون الواسطي ← حماد بن سلمة البصري