🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

چالیس سے کم افراد کے ساتھ نماز جعہ کی ادائیگی کے جائز ہونے کی دلیل کا بیان، ان علماء کے موقف کے برخلاف جو کہتے ہیں کہ چالیس سے کم افراد کے ساتھ نماز جمعہ ادا کرنا جائز نہیں

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1852
نا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، وَسَالِمُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ:" بَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَائِمًا، إِذَ قَدِمَتْ عِيرُ الْمَدِينَةِ، فَابْتَدَرَهَا أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَبْقَ مِنْهُمْ إِلا اثْنَا عَشَرَ رَجُلا، مِنْهُمْ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَنَزَلَتِ الآيَةُ: وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا سورة الجمعة آية 11"
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اس دوران میں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن کھڑے ہوکر خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، جب مدینہ منوّرہ کا تجارتی قافلہ آ گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی اُس قافلے کی طرف دوڑ گئے تو آپ کے صحابہ میں سے صرف بارہ افراد باقی رہ گئے۔ اُن میں سیدنا ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہما بھی تھے۔ اور یہ آیت نازل ہوئی «‏‏‏‏وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا» ‏‏‏‏ [ سورة الجمعة: 11 ] اور جب وہ تجارت یا کوئی کھیل تماشا دیکھتے ہیں تو اُس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں اور آپ کو کھڑا چھوڑ جاتے ہیں [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1852]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 936، 2058، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 863، وابن الجارود فى "المنتقى"، 321، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1823، 1852، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6876، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3311، 3311 م، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5706، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1583، 1584، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14579»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں