Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

رمضان المبارک کا روزہ جماع کرکے توڑنے کا گناہ کرنے والے شخص کو استغفار کرنے کا حُکم دینے کا بیان۔ جبکہ وہ گردن آزاد کرنے اور کھانا کھلانے کا کفّارہ ادا نہ کرسکتا ہو اور نہ وہ دو ماہ کے مسلسل روزے رکھ سکتا ہو۔ اور رمضان المبارک میں جماع کرنے کا کفّارہ کھجوریں کھلا کر ادا کرنے کے حُکم کا بیان
تخریج الحدیث:

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1949
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَزِيزٍ الأَيْلِيُّ ، أَنَّ سَلامَةَ حَدَّثَهُمْ , عَنْ عُقَيْلٍ ، أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ شِهَابٍ ، عَنْ رَجُلٍ جَامَعَ أَهْلَهُ فِي رَمَضَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا جَالِسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , جَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , هَلَكْتُ. قَالَ:" وَيْحَكَ، مَا شَأْنُكَ؟" قَالَ: وَقَعْتُ عَلَى أَهْلِي فِي رَمَضَانَ. قَالَ:" أَعْتِقْ رَقَبَةً". قَالَ: مَا أَجِدُهَا. قَالَ:" صُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ". قَالَ: مَا أَسْتَطِيعُ. قَالَ:" أَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا". قَالَ: مَا أَجِدُهُ. قَالَ: فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ , فَقَالَ:" خُذْهُ وَتَصَدَّقْ بِهِ" , قَالَ: مَا أَجِدُ أَحَقَّ بِهِ مِنْ أَهْلِي , يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَا بَيْنَ طُنُبَيِ الْمَدِينَةِ أَحَدًا أَحْوَجَ إِلَيْهِ مِنِّي. فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ أَنْيَابُهُ. قَالَ:" خُذْهُ وَاسْتَغْفِرِ اللَّهَ"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اس اثنا میں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا، ایک شخص آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اے اللہ کے رسول، میں ہلاک ہوگیا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا بھلا ہو تمہیں کیا ہوا ہے؟ اُس نے جواب دیا کہ میں نے رمضان میں اپنی بیوی سے ہمبستری کرلی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک گردن آزاد کرو۔ اُس نے کہا کہ میرے پاس گردن آزاد کرنے کی قوت نہیں ہے ـ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو ماہ کے مسلسل روزے رکھو ـ اُس نے عرض کی کہ میں اس کی استطاعت نہیں رکھتا ـ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حُکم دیا: ساٹھ مساکین کو کھانا کھلا دو اُس نے کہا کہ میرے پاس اتنا اناج بھی نہیں ہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ٹوکرا لایا گیا جس میں کھجوریں تھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹوکرا لے لو اور اس کا صدقہ کردو۔ وہ کہنے لگا کہ اے اللہ کے رسول، میں اپنے گھر والوں سے زیادہ اس کا حقدار کسی کو نہیں پاتا، مدینہ منوّرہ کے دونوں کناروں کے درمیان مجھ سے زیادہ اس کا محتاج کوئی نہیں ہے۔ تو رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم خوب ہنس دیئے حتّیٰ کہ آپ کے نوکیلے دانت مبارک ظاہر ہوگئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لے لو اور ﷲ تعالیٰ سے بخشش مانگو۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1949]
تخریج الحدیث: صحيح لغيره

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں