صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
روزے دار کو بیویوں کے سروں اور اُن کے چہروں کا بوسہ لینے کی رخصت ہے۔ اُن علماء کے مذہب کے برخلاف جو اسے مکروہ سمجھتے ہیں
حدیث نمبر: 2001
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ ، حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ . ح وَحَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَظَلُّ صَائِمًا، لا يُبَالِي مَا قَبَّلَ مِنْ وَجْهِي حَتَّى يُفْطِرَ" . وَقَالَ يُوسُفُ:" فَقَبَّلَ مَا شَاءَ مِنْ وَجْهِي". وَقَالَ الزَّعْفَرَانِيُّ:" فَقَبَّلَ أَيَّ مَكَانٍ شَاءَ مِنْ وَجْهِي"
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں ہوتے اور افطاری تک میرے چہرے کا بوسہ لینے میں کوئی پروانہ کرتے۔“ جناب یوسف کی روایت میں ہے کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم جتنی بار چاہتے میرے چہرے کا بوسہ لے لیتے۔“ اور جناب زعفرانی کی روایت میں ہے کہ“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے چہرے کا جہاں سے چاہتے بوسہ لے لیتے۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2001]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1928، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1106، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1021، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2000، 2001، 2003، 2004، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3537، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1651، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2383، والترمذي فى (جامعه) برقم: 727، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1683، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8172، والدارقطني فى (سننه) برقم: 489، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24744»
امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ جناب عبداللہ بن شقیق کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں (اپنی بیویوں کے) سروں کا بوسہ لے لیتے تھے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2002]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، 0»