🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

اس بات کا بیان کہ سفر میں روزہ نہ رکھنا رخصت ہے، روزہ نہ رکھنا فرض نہیں ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2026
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ . ح وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ الْحَكَمِ ، أَنَّ ابْنَ وَهْبٍ أَخْبَرَهُمْ، أَخْبَرَنِي ابْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي الأَسْوَدِ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الأَسْلَمِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَجِدُ بِي قُوَّةً عَلَى الصِّيَامِ فِي السَّفَرِ , فَهَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هِيَ رُخْصَةٌ مِنَ اللَّهِ , فَمَنْ أَخَذَ بِهَا فَحَسَنٌ , وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَصُومَ فَلا جُنَاحٌ عَلَيْهِ" . قَالَ: وَفِي خَبَرِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ , عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَعَلَيْكُمْ بِرُخْصَةِ اللَّهِ الَّتِي رَخَّصَ لَكُمْ , فَاقْبَلُوهَا"
سیدنا حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول، میں سفر میں روزہ رکھنے کی طاقت رکھتا ہوں تو کیا (روزہ رکھنے کی صورت میں) مجھے کوئی گناہ ہو گا؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رخصت ہے تو جو شخص اس رخصت سے فائدہ اُٹھائے تو بہت اچھا ہے۔ اور جو شخص روزہ رکھنا پسند کرے تو اُس پر کوئی گناہ نہیں۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی رخصت کو اختیار کرو، جو رخصت اللہ نے تمہیں عطا کی ہے اسے قبول کرو۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2026]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1121، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1034، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2026، 2153، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3567، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1586، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2293، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2403، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8240، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2301، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16283»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں