صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
اس علت وسبب کا بیان جس کی بنا پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بعض نفلی کا م ترک کردیتے تھے اگرچہ آپ ان کی ترغیب بھی دلاتے تھے۔ اور ڈر یہ تھا کہ کہیں وہ فعل مسلمانوں پر فرض نہ کردیا جائے، جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں پر فرائض میں تخفیف کرنا پسند فرماتے تھے
حدیث نمبر: 2104
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتْرُكُ الْعَمَلَ وَهُوَ يُحِبُّ أَنْ يَفْعَلَهُ خَشْيَةَ أَنْ يُسْتَنَنَ بِهِ، فَيُفْرَضَ عَلَيْهِمْ. وَكَانَ يُحِبُّ مَا خَفَّ عَلَى النَّاسِ مِنَ الْفَرَائِضِ"
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک عمل ترک کردیتے حالانکہ آپ اسے کرنا پسند فرماتے تھے، آپ اس ڈر سے ترک کر دیتے تھے کہ لوگ اس پر باقاعدگی سے عمل کرنے لگیں گے تو اُن پر فرض کردیا جائے گا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں پر خفیف اور آسان فرائض پسند یدہ تھے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2104]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1128، 1177، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 718، ومالك فى (الموطأ) برقم: 519، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1230، 2104، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 312، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 482، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1293، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4989، 4991، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24659»