🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

جب عورت کا خاوند گھر میں موجود ہو، سفر پر نہ ہو تو عورت کے لئے خاوند کی اجازت کے بغیر نفلی روزہ رکھنا منع ہے

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2168
حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، بَلَغَ بِهِ" لا تَصُومُ الْمَرْأَةُ يَوْمًا مِنْ غَيْرِ شَهْرِ رَمَضَانَ وَزَوْجُهَا شَاهِدٌ إِلا بِإِذْنِهِ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مِنْ غَيْرِ شَهْرِ رَمَضَانَ" مِنَ الْجِنْسِ الَّذِي نَقُولُ: إِنَّ الأَمْرَ إِذَا كَانَ لِعِلَّةٍ فَمَتَى كَانَتِ الْعِلَّةُ قَائِمَةً، وَالأَمْرُ قَائِمٌ، فَالأَمْرُ قَائِمٌ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَبَاحَ لِلْمَرْأَةِ صَوْمَ شَهْرِ رَمَضَانَ بِغَيْرِ أَذْنِ زَوْجِهَا، إِذْ صَوْمُ رَمَضَانَ وَاجِبٌ عَلَيْهَا، كَانَ كُلُّ صَوْمٍ صَوْمَ وَاجِبٍ مِثْلَهُ جَائِزٌ لَهَا أَنْ تَصُومَ بِغَيْرِ إِذْنِ زَوْجِهَا. وَلِهَذِهِ الْمَسْأَلَةِ كِتَابٌ مُفْرَدٌ، قَدْ بَيَّنْتُ الأَمْرَ الَّذِي هُوَ لِعِلَّةٍ، وَالزَّجْرَ الَّذِي هُوَ لِعِلَّةٍ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورت رمضان المبارک کے روزوں کے علاوہ ایک دن کا روزہ بھی شوہر کی اجازت کے بغیر نہ رکھے جبکہ اس کا شوہر گھر میں موجود ہو۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ ماہِ رمضان کے علاوہ یہ اسی قسم سے ہے جس کے بارے میں ہم کہتے ہیں کہ جب حُکم کسی علت کی بنا پر ہو اور علت موجود اور ثابت ہوتو وہ علم ثابت اور وجوب کے لئے ہوتا ہے۔ لہٰذا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کے لئے رمضان المبارک کے روزے خاوند کی اجازت کے بغیر رکھنا جائز قراردے دیئے، کیونکہ رمضان کے روزے اس پر واجب ہیں، تو ہر فرض روزہ اس کے لئے خاوند کی اجازت کے بغیر رکھنا جائز ہوا۔ اس مسئلہ پر میں نے ایک مستقل کتاب لکھی ہے جس میں، میں نے وہ امراور نہی کو بیان کیا جو کسی علت کی بنا پر ہوتے ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2168]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2066، 5192، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1026، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2168، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3572، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7422، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 2932، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1687، 2458، والترمذي فى (جامعه) برقم: 782، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1761، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7944، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8305»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں