صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
جو دلیل میں ذکر کی ہے اس کی تفسیر کرنے والی روایت کا بیان کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شب قدر کو مہینے کے گزر جانے والے دنوں کے حساب سے تئیسویں رات کو تلاش کرنے کا حُکم دیا تھ جبکہ باقی ماندہ دنوں کے اعتبار سے وہ ساتویں رات تھی
حدیث نمبر: 2179
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: ذَكَرْنَا لَيْلَةَ الْقَدْرِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَمْ مَضَى مِنَ الشَّهْرِ؟" قُلْنَا: مَضَى اثْنَانِ وَعِشْرُونَ، وَبَقِيَ ثَمَانٍ. قَالَ:" لا، بَلْ بَقِيَ سَبْعٌ". قَالُوا: لا، بَلْ بَقِيَ ثَمَانٍ، قَالَ:" لا، بَلْ بَقِيَ سَبْعٌ". قَالُوا: لا، بَلْ بَقِيَ ثَمَانٍ، قَالَ:" لا، بَلْ بَقِيَ سَبْعٌ، الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ". ثُمَّ قَالَ بِيَدِهِ، حَتَّى عَدَّ تِسْعَةً وَعِشْرِينَ، ثُمَّ قَالَ:" الْتَمِسُوهَا اللَّيْلَةَ" . خَبَرُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ مِنْ هَذَا الْبَابِ:" الْتَمِسُوهَا اللَّيْلَةَ"، وَذَلِكَ لَيْلَةَ ثَلاثٍ وَعِشْرِينَ. خَبَرُ أَبِي سَعِيدٍ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَبِيحَةَ إِحْدَى وَعِشْرِينَ، وَإِنَّ جَبِينَهُ وَأَرْنَبَةَ أَنْفِهِ لَفِي الْمَاءِ وَالطِّينِ مِنْ هَذَا الْجِنْسِ ؛ لأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ كَانَ أَعْلَمَهُمْ أَنَّهُ رَأَى أَنَّهُ يَسْجُدُ صَبِيحَةَ لَيْلَةِ الْقَدْرِ فِي مَاءٍ وَطِينٍ، فَكَانَتْ لَيْلَةُ إِحْدَى وَعِشْرِينَ الْوِتْرَ مِمَّا مَضَى مِنَ الشَّهْرِ، فَيُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ رَمَضَانُ فِي تِلْكِ السَّنَةِ كَانَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ، فَكَانَتْ تِلْكَ اللَّيْلَةُ التَّاسِعَةُ مِمَّا بَقِيَ مِنَ الشَّهْرِ، الْحَادِيَةَ وَالْعِشْرِينَ مِمَّا مَضَى مِنْهُ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس شب قدر کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینے کے کتنے دن گزر گئے ہیں؟“ ہم نے عرض کی کہ بائیس دن گزرگئے ہیں اور آٹھ دن باقی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ سات دن باقی ہیں۔“ صحابہ نے عرض کی کہ نہیں، بلکہ آٹھ دن باقی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ سات دن باقی ہیں، مہینہ اُنتیس دنوں کا بھی ہوتا ہے۔ پھرآپ نے اپنے دست مبارک سے اُنتیس دن شمار کیے پھر فرمایا: ”شب قدر کو آج رات تلاش کرو۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2179]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط البخاري، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2179، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2548، 3450، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1656، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8631، 8632، 8633، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7541، والبزار فى (مسنده) برقم: 9126، 9127، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 9695»
حضرت عبداللہ بن انیس کی روایت اسی مسئلے کے متعلق ہے۔ ”شب قدر کو آج رات تلاش کرو، اور یہ تئیسویں رات تھی۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2180]
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث بھی اسی مسئلے کے بارے میں ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اکیسویں رات کی صبح کو دیکھا تو آپ کی پیشانی اور ناک کی نوک پر کیچڑ لگا ہوا تھا۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو بتایا تھا کہ آپ نے شبِ قدر میں خود کو کیچڑ میں سجدہ کرتے ہوئے دیکھا ہے تو اکیسویں رات گزر جانے والے مہینے کے دنوں کے اعتبار سے طاق رات تھی۔ ممکن ہے اس سال رمضان المبارک اُنتیس دنوں کا ہو۔ اس طرح وہ رات باقی ماندہ دنوں کے اعتبار سے نویں رات تھی۔ جبکہ گزرجانے والے دنوں کے اعتبار سے اکیسویں رات تھی۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2181]