صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
اس حدیث کا بیان جو دوسرے معنی کے صحیح ہونے پر دلالت کرتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شب قدر کو آخری سات راتوں میں تلاش کرنے کا حُکم اس وقت دیا جب شب قدر کا متلاشی اسے آخری مکمّل عشرے میں تلاش کرنے سے عاجز اور کمزور ہوگیا۔
حدیث نمبر: 2183
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ حُرَيْثٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ يَعْنِي لَيْلَةَ الْقَدْرِ فَإِنْ ضَعُفَ أَحَدُكُمْ، أَوْ عَجَزَ، فَلا يُغْلَبَنَّ عَلَى السَّبْعِ الْبَوَاقِي"
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شب قدر کو آخری عشرے میں تلاش کرو، پھر اگر تم میں سے کوئی شخص کمزور ہو جائے یا عاجز آجائے تو پھر وہ باقی سات راتوں میں ہر گز مغلوب و لاچار نہ ہو۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2183]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1156، 2015، 6991، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1165، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1141، وابن الجارود فى "المنتقى"، 445، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2182، 2183، 2222، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3675، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1385، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8621، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4586»