🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Our Whatsapp Channel
صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1562. ‏(‏7‏)‏ بَابُ صِفَاتِ أَلْوَانِ عِقَابِ مَانِعِ الزَّكَاةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، قَبْلَ الْفَصْلِ بَيْنَ الْخَلْقِ، نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِهِ
قیامت والے دن مخلوق کے درمیان فیصلے سے پہلے مانعین زکوٰۃ جن مختلف قسم کے عذابوں سے دو چار ہوں گے اُن کا بیان۔ ہم اللہ تعالیٰ سے اس کے عذاب سے پناہ مانگتے ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2251
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ، وَجَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّغْلِبِيُّ , قَالا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ إِسْحَاقُ: حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، وَقَالَ جَعْفَرٌ: عَنِ الأَعْمَشِ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ إِسْحَاقُ , قَالَ: انْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ، فَلَمَّا رَآنِي، قَالَ: " هُمُ الأَخْسَرُونَ، وَرَبِّ الْكَعْبَةِ"، قَالَ: فَجَلَسْتُ، فَلَمْ أَتَقَارَّ أَنْ قُمْتُ، فَقُلْتُ: مَنْ هُمْ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي؟ قَالَ:" هُمُ الأَكْثَرُونَ، إِلا مَنْ قَالَ بِالْمَالِ هَكَذَا أَرْبَعَ مَرَّاتٍ، وَقَلِيلٌ مَا هُمْ، وَمَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ، وَلا بَقَرٍ، وَلا غَنَمٍ لا يُؤَدِّي زَكَاتَهَا إِلا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْظَمُ مَا كَانَتْ، وَأَسْمَنُهُ تَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا، وَتَطَأَهُ بِأَخْفَافِهَا، كُلَّمَا نَفَذَتْ أُخْرَاهَا عَادَتْ عَلَيْهِ أُولاهَا، حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ" ، هَذَا حَدِيثُ إِسْحَاقَ، وَقَالَ جَعْفَرٌ: عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ، ثُمَّ ذَكَرَ مِنْ هَذَا الْمَوْضِعِ إِلَى آخِرِهِ مِثْلَهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ مَا قَبْلَ هَذَا الْحَدِيثِ
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا جبکہ آپ کعبہ شریف کے سائے میں تشریف فرما تھے۔ جب آپ نے مجھے دیکھا تو فرمایا: ”رب کعبہ کی قسم، وہی لوگ زیادہ خسارہ پانے والے ہیں۔“ تو میں بیٹھ گیا لیکن مجھے قرار و سکون نہ آیا تو میں کھڑا ہوگیا اور عرض کی کہ میرے ماں باپ آپ پرقربان ہوں وہ کون لوگ ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ زیادہ دولت مند لوگ ہیں۔ سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے اپنا مال اپنے دائیں، بائیں، آگے اور پیچھے (بوقت ضرورت) خرچ کیا یہ آپ نے چار مرتبہ فرمایا اور ایسے لوگ بہت ہی کم ہیں اور جو بھی شخص اونٹوں، گائیوں یا بکریوں کا مالک ہو اور وہ ان کی زکوٰۃ نہ دیتا ہو تو یہ جانور قیامت کے دن خوب موٹے تازہ اور فربہ ہوکر آئیںگے اور اُسے اپنے سینگوں سے ٹکریں ماریںگے، اور اپنے پاؤں تلے روندیںگے، جب پچھلا جانور گزر جائے گا تو پہلا جانور اُس پر لوٹ آئے گا۔ (یہ عذاب مسلسل جاری رہے گا) حتّیٰ کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے گا۔“ یہ جناب اسحاق کی حدیث ہے۔ اور جناب جعفر کی روایت میں ہے۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بھی اونٹوں کا مالک شخص۔۔۔۔۔۔“ پھر اس جگہ سے آخر تک مذکورہ بالا کی طرح روایت بیان کی، لیکن انہوں نے حدیث کا ابتدائی حصّہ بیان نہیں کیا۔“ [صحيح ابن خزيمه/جُمَّاعُ أَبْوَابِ التَّغْلِيظِ فِي مَنْعِ الزَّكَاةِ/حدیث: 2251]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1460، 6638، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 990، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2251، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3256، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2439، والترمذي فى (جامعه) برقم: 617 م، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1785، 4130، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 2432، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7379، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21747»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں