🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Our Whatsapp Channel
صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1563. ‏(‏8‏)‏ بَابُ ذِكْرِ بَعْضِ أَلْوَانِ مَانِعِ الزَّكَاةِ
مانعین زکوٰۃ کے لئے بعض دردناک عذابوں کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q2252
وَالدَّلِيلُ عَلَى ضِدِّ قَوْلِ مَنْ جَهِلَ مَعْنَى قَوْلِهِ تَعَالَى‏:‏ ‏ [‏وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ الْآيَةَ‏] ‏ ‏ [‏التَّوْبَةِ‏:‏ 34‏] ‏، فَزَعَمَ أَنَّ هَذِهِ الْآيَةَ إِنَّمَا نَزَلَتْ فِي الْكُفَّارِ لَا فِي الْمُؤْمِنِينَ، وَالنَّبِيُّ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَعْلَمَ أَنَّ هَذِهِ الْآيَةَ إِنَّمَا نَزَلَتْ فِي الْمُؤْمِنِينَ لَا فِي الْكُفَّارِ، إِذْ مُحَالٌ أَنْ يُقَالَ‏:‏ يُعَذَّبُ الْكُفَّارُ إِلَى وَقْتِ كَذَا وَكَذَا، ثُمَّ يُرَى سَبِيلَهُ، إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ، وَإِمَّا إِلَى النَّارِ؛ لِأَنَّ الْكَافِرَ يَكُونُ مُخَلَّدًا فِي النَّارِ، لَا يَطْمَعُ أَنْ يُخَلَّى سَبِيلُهُ بَعْدَ تَعْذِيبِ بَعْضِ الْعَذَابِ قَبْلَ الْفَصْلِ بَيْنَ النَّاسِ، ثُمَّ يُخَلَّى سَبِيلُهُ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ وَإِمَّا إِلَى النَّارِ، بَلْ يُخَلَّدُ فِي النَّارِ بَعْدَ الْفَصْلِ بَيْنَ النَّاسِ

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2252
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَا مِنْ عَبْدٍ لا يُؤَدِّي زَكَاةَ مَالِهِ، إِلا أُتِيَ بِهِ وَبِمَالِهِ، فَأُحْمِيَ عَلَيْهِ صَفَائِحُ فِي نَارِ جَهَنَّمَ، فَتُكْوَى بِهِ جَنْبَاهُ وَجَبِينُهُ وَظَهْرُهُ، حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ بَيْنَ عِبَادِهِ يَوْمًا مِقْدَارُهُ أَلْفَ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ، ثُمَّ يَرَى سَبِيلَهُ، إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ، وَإِمَّا إِلَى النَّارِ" " وَلا عَبْدٍ لا يُؤَدِّي صَدَقَةَ إِبِلِهِ، إِلا أُتِيَ بِهِ وَإِبِلُهُ عَلَى أَوْفَرَ مَا كَانَتْ، فَيُبْطَحُ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ، فَتَسِيرُ عَلَيْهِ كُلَّمَا مَضَى آخِرُهَا رَدَّ أَوَّلُهَا حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ بَيْنَ عِبَادِهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ أَلْفَ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ، ثُمَّ يَرَى سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ، وَإِمَّا إِلَى النَّارِ" " وَلا عَبْدٍ لا يُؤَدِّي صَدَقَةَ غَنَمِهِ، إِلا أُتِيَ بِهِ وَبِغَنَمِهِ عَلَى أَوْفَرَ مَا كَانَتْ، فَيُبْطَحُ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ، فَتَسِيرُ عَلَيْهِ كُلَّمَا مَضَى عَنْهُ آخِرُهَا رَدَّ أَوَّلُهَا تَطَأَهُ بِأَظْلافِهَا، وَتَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا لَيْسَ فِيهَا عَقْصَاءُ، وَلا جَلْحَاءُ حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ بَيْنَ عِبَادِهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ أَلْفَ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ، ثُمَّ يَرَى سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ، وَإِمَّا إِلَى النَّارِ" قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْخَيْلُ؟ قَالَ: " الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَالْخَيْلُ لِثَلاثَةٍ: هِيَ لِرَجُلٍ أَجْرٌ، وَلِرَجُلٍ سِتْرٌ، وَعَلَى رَجُلٍ وِزْرٌ" ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ قَالُوا: الْحُمُرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " مَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيَّ فِيهَا شَيْئًا، إِلا هَذِهِ الآيَةَ الْجَامِعَةَ الْفَاذَّةَ: مَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ سورة الزلزلة آية 7 - 8"، الْجَلْحَاءُ: الَّتِي لَيْسَ لَهَا قَرْنٌ، وَالْعَقْصَاءُ: الْمَكْسُورَةُ الْقَرْنِ ،
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص بھی اپنے مال کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتا اُسے (قیامت کے دن) اس کے مال سمیت لایا جائے گا۔ پھر اس مال کی تختیاں (بناکر انہیں) جہنّم کی آگ میں تپایا جائے گا۔ پھر ان تختیوں سے اس کے پہلو، پیشانی اور کمر پر داغ لگائے جائیں گے۔ حتّیٰ کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کر دیگا۔ (اسے یہ سزا) ایک ایسے دن میں (مسلسل دی جائے گی) جس کی مقدار تمہاری گنتی کے مطابق ایک ہزار سال کے برابر ہوگی۔ پھر وہ اپنا راستہ جنّت یا جہنّم کی طرف دیکھ لیگا اور جو بھی شخص اپنے اونٹوں کی زکوٰۃ نہیں دیتا تو اُسے اُس کے اونٹوں سمیت لایا جائیگا جو خوب موٹے تازہ ہوںگے۔ اُسے ایک وسیع ہموار میدان میں اوندھے منہ لٹایا جائیگا۔ پھر وہ اونٹ اسے روندیںگے، جب آخری اونٹ گزر جائے گا تو پہلا اونٹ واپس لایا جائیگا۔ حتّیٰ کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کر دیگا۔ (اس کے ساتھ یہ سلوگ) سارا دن ہوتا رہے گا جس کی مقدار تمہاری گنتی کے مطابق ایک ہزار سال کے برابر ہے پھر وہ اپنا راستہ جنّت یا جہنّم کی طرف دیکھ لیگا اور جو بھی شخص اپنی بکریوں کی زکوٰۃ نہیں دیتا تو اُسے اُس کی بکریوں سمیت لایا جائے گا جو خوب موٹی تازی ہوںگی تو اُس شخص کو ایک وسیع ہموار میدان میں اُلٹا لٹایا جائیگا اور وہ بکریاں اُس کے اوپر چلیں گی۔ جب بھی آخری بکری گزر جائیگی تو پہلی کو دوبارہ لایا جائیگا۔ وہ بکریاں اُسے اپنے کھروں کے ساتھ روندیںگی اور سینگوں سے ٹکریں ماریںگی۔ اُن میں کوئی بکری مڑے سینگوں والی یا بغیر سینگوں کے نہیں ہوگی۔ حتّیٰ کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ فرمادے گا۔ (اُسے یہ عذاب مسلسل) پورا دن ہوتا رہیگا جس کی مقدار تمھاری گنتی کے مطابق ایک ہزار سال ہوگی۔ پھر وہ اپنا راستہ جنّت یا جہنّم کی طرف دیکھے گا۔“ صحابہ کرام نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، گھوڑوں کے بارے میں کیا حُکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گھوڑوں کی پیشانیوں میں قیامت تک خیر و برکت لکھی ہوئی ہے اور گھوڑے تین قسم کے ہیں۔ ایک قسم آدمی کے لئے اجر وثواب کا باعث ہے۔ ایک آدمی کے لئے بچاؤ کا باعث ہے اور ایک آدمی کے لئے عذاب کا باعث ہے۔“ پھر مکمّل حدیث بیان کی۔ صحابہ کرام نے عرض کیا کہ ”اے اللہ کے رسول، گدھوں کے بارے میں کیا حُکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں مجھ پر کوئی حُکم نازل نہیں فرمایا سوائے اس جامع منفرد آیت کے «‏‏‏‏فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَهُ، وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَهُ ‎» [ سورة الزلزلة: 8، 7 ] ”جس شخص نے ذرہ بھر بھلائی کی وہ اسے دیکھ لیگا اور جس نے ذرہ بھر بُرائی کی وہ بھی اسے دیکھ لیگا۔“ ”الجلحاء“ وہ بکری جس کے سینگ نہ ہوں۔ ”العقصاء“ جس کے سینگ ٹوٹے ہوئے یا مڑے ہوئے ہوں۔ [صحيح ابن خزيمه/جُمَّاعُ أَبْوَابِ التَّغْلِيظِ فِي مَنْعِ الزَّكَاةِ/حدیث: 2252]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1402، 1403، 1443، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 987، ومالك فى (الموطأ) برقم: 887، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2252، 2253، 2254، 2291، 2321، 2322، 2437، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3253، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1439، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2441، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1658، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1636، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1786، 2788، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7323، وأحمد فى (مسنده) برقم: 5873»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2253
حَدَّثَنَا أَبُو الْخَطَّابِ زِيَادُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ، وَقَالَ فِي كُلِّهَا: فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ، وَقَالَ أَيْضًا: ثُمَّ تَسْتَنُّ عَلَيْهِ.
امام صاحب نے اپنے استاد زیادہ بن یحییٰ کی سند سے مذکورہ بالا روایت بیان کی ہے۔ مکمّل حدیث بیان کی اور اس میں تمام جگہوں پر یہ الفاظ ہیں کہ ”اسے یہ عذاب سارا دن مسلسل ہوتا رہیگا جس کی مقدار تمہارے حساب کے مطابق پچاس ہزار سال ہوگی۔“ اور یہ الفاظ بھی بیان کیے کہ ”پھر وہ جانور اُسے روندیںگے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جُمَّاعُ أَبْوَابِ التَّغْلِيظِ فِي مَنْعِ الزَّكَاةِ/حدیث: 2253]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1402، 1403، 1443، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 987، ومالك فى (الموطأ) برقم: 887، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2252، 2253، 2254، 2291، 2321، 2322، 2437، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3253، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1439، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2441، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1658، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1636، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1786، 2788، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7323، وأحمد فى (مسنده) برقم: 5873»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں