🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1. باب بَيَانِ الْإِيمَانِ وَالْإِسْلَامِ وَالْإِحْسَانِ وَوُجُوبِ الْإِيمَانِ بِإِثْبَاتِ قَدَرِ اللَّهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى وَبَيَانِ الدَّلِيلِ عَلَى التَّبَرِّي مِمَّنْ لَا يُؤْمِنُ بِالْقَدَرِ وَإِغْلَاظِ الْقَوْلِ فِي حَقِّهِ.
باب: ایمان اور اسلام اور احسان کا بیان اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی تقدیر پر ایمان کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 8 ترقیم شاملہ: -- 93
قَالَ أَبُو الْحُسَيْنِ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ الْقُشَيْرِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: بِعَوْنِ اللَّهِ نَبْتَدِئُ وَإِيَّاهُ نَسْتَكْفِي، وَمَا تَوْفِيقُنَا إِلَّا بِاللَّهِ جَلَّ جَلَالُهُ.
حَدَّثَنِي أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ كَهْمَسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ . ح وحَدَّثَنَا وَهَذَا حَدِيثُهُ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، قَالَ: كَانَ أَوَّلَ مَنْ قَالَ فِي الْقَدَرِ بِالْبَصْرَةِ: مَعْبَدٌ الْجُهَنِيُّ، فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَحُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيُّ، حَاجَّيْنِ أَوْ مُعْتَمِرَيْنِ، فَقُلْنَا: لَوْ لَقِينَا أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلْنَاهُ عَمَّا يَقُولُ هَؤُلَاءِ فِي الْقَدَرِ، فَوُفِّقَ لَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ دَاخِلًا الْمَسْجِدَ، فَاكْتَنَفْتُهُ أَنَا، وَصَاحِبِي، أَحَدُنَا عَنْ يَمِينِهِ وَالآخَرُ عَنْ شِمَالِهِ، فَظَنَنْتُ أَنَّ صَاحِبِي سَيَكِلُ الْكَلَامَ إِلَيَّ، فَقُلْتُ: أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَن، إِنَّهُ قَدْ ظَهَرَ قِبَلَنَا نَاسٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ، وَيَتَقَفَّرُونَ الْعِلْمَ، وَذَكَرَ مِنْ شَأْنِهِمْ، وَأَنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنْ لَا قَدَرَ، وَأَنَّ الأَمْرَ أُنُفٌ، قَالَ: فَإِذَا لَقِيتَ أُولَئِكَ، فَأَخْبِرْهُمْ أَنِّي بَرِيءٌ مِنْهُمْ، وَأَنَّهُمْ بُرَآءُ مِنِّي، وَالَّذِي يَحْلِفُ بِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، لَوْ أَنَّ لِأَحَدِهِمْ، مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا، فَأَنْفَقَهُ مَا قَبِلَ اللَّهُ مِنْهُ، حَتَّى يُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ، ثُمَّ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ، إِذْ طَلَعَ عَلَيْنَا رَجُلٌ شَدِيدُ، بَيَاضِ الثِّيَابِ، شَدِيدُ، سَوَادِ الشَّعَرِ، لَا يُرَى عَلَيْهِ أَثَرُ السَّفَرِ، وَلَا يَعْرِفُهُ مِنَّا أَحَدٌ، حَتَّى جَلَسَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَسْنَدَ رُكْبَتَيْهِ إِلَى رُكْبَتَيْهِ، وَوَضَعَ كَفَّيْهِ عَلَى فَخِذَيْهِ، وَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، أَخْبِرْنِي عَنِ الإِسْلَامِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الإِسْلَامُ أَنْ تَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ، وَتَصُومَ رَمَضَانَ، وَتَحُجَّ الْبَيْتَ إِنِ اسْتَطَعْتَ إِلَيْهِ سَبِيلًا"، قَالَ: صَدَقْتَ، قَالَ: فَعَجِبْنَا لَهُ يَسْأَلُهُ، وَيُصَدِّقُهُ، قَالَ: فَأَخْبِرْنِي عَنِ الإِيمَانِ، قَالَ:" أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ، وَمَلَائِكَتِهِ، وَكُتُبِهِ، وَرُسُلِهِ، وَالْيَوْمِ الآخِرِ، وَتُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ"، قَالَ: صَدَقْتَ، قَالَ: فَأَخْبِرْنِي عَنِ الإِحْسَانِ، قَالَ:" أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ، فَإِنَّهُ يَرَاكَ"، قَالَ: فَأَخْبِرْنِي عَنِ السَّاعَةِ، قَالَ: مَا الْمَسْئُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ، قَالَ: فَأَخْبِرْنِي عَنْ أَمَارَتِهَا، قَالَ:" أَنْ تَلِدَ الأَمَةُ رَبَّتَهَا، وَأَنْ تَرَى الْحُفَاةَ الْعُرَاةَ الْعَالَةَ رِعَاءَ الشَّاءِ، يَتَطَاوَلُونَ فِي الْبُنْيَانِ"، قَالَ: ثُمَّ انْطَلَقَ فَلَبِثْتُ مَلِيًّا، ثُمَّ قَالَ لِي: يَا عُمَرُ أَتَدْرِي مَنِ السَّائِلُ؟ قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَإِنَّهُ جِبْرِيلُ، أَتَاكُمْ يُعَلِّمُكُمْ دِينَكُمْ.
کہمس سے ابن بریدہ سے، انہوں نے یحییٰ بن یعمر سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ سب سے پہلا شخص جس نے بصرہ میں تقدیر (سے انکار) کی بات کی، معبدجہنی تھا۔ میں (یحییٰ) اور حمید بن عبدالرحمن خمیری حج یا عمرے کے ارادے سے نکلے، ہم نے (آپس میں) کہا: کاش! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کسی کے ساتھ ہماری ملاقات ہو جائے تو ہم ان سے تقدیر کے بارے میں ان (آج کل کے) لوگوں کی کہی ہوئی باتوں کے متعلق دریافت کر لیں۔ توفیق الٰہی سے ہمیں حضرت عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما مسجد میں داخل ہوتے ہوئے مل گئے۔ میں اور میرے ساتھی نے ان کے درمیان میں لے لیا، ایک ان کی دائیں طرف تھا اور دوسرا ان کی بائیں طرف۔ مجھے اندازہ تھا کہ میرا ساتھی گفتگو (کا معاملہ) میرے سپرد کرے گا، چنانچہ میں نے عرض کی: اے ابوعبدالرحمن! (یہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی کنیت ہے) واقعہ یہ ہے کہ ہماری طرف کچھ ایسے لوگ ظاہر ہوئے جو قرآن مجید پڑھتے ہیں اور علم حاصل کرتے ہیں (اور ان کے حالات بیان کیے) ان لوگوں کا خیال ہے کہ تقدیر کچھ نہیں، (ہر) کام نئے سرے سے ہو رہا ہے (پہلے اس بارے میں نہ کچھ طے ہے، نہ اللہ کا اس کا علم ہے۔) ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جب تمہاری ان لوگوں سے ملاقات ہو تو انہیں بتا دینا کہ میں ان سے بری ہوں اور وہ مجھ سے بری ہیں۔ اس (ذات) کی قسم جس (کے نام) کے ساتھ عبداللہ بن عمر حلف اٹھاتا ہے! اگر ان میں سے کسی کے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو اور وہ اسے خرچ (بھی) کر دے تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف سے اس کو قبول نہیں فرمائے گا یہاں تک کہ وہ تقدیر پر ایمان لے آئے، پھر کہا: مجھے میرے والد عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بتایا: ایک دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ اچانک ایک شخص ہمارے سامنے نمودار ہوا۔ اس کے کپڑے انتہائی سفید اور بال انتہائی سیاہ تھے۔ اس پر سفر کا کوئی اثر دکھائی دیتا تھا نہ ہم میں سے کوئی اسے پہچانتا تھا حتیٰ کہ وہ آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھ گیا اور اپنے گھٹنے آپ کے گھٹنوں سے ملا دیے، اور اپنے ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رانوں پر رکھ دیے، اور کہا: اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! مجھے اسلام کے بارے میں بتائیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام یہ ہے کہ تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے رسول ہیں، نماز کا اہتمام کرو، زکاۃ ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو اور اگر اللہ کے گھر تک راستہ (طے کرنے) کی استطاعت ہو تو اس کا حج کرو۔ اس نے کہا: آپ نے سچ فرمایا۔ (حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے) کہا: ہمیں اس پر تعجب ہوا کہ آپ سے پوچھتا ہے اور (خود ہی) آپ کی تصدیق کرتا ہے۔ اس نے کہا: مجھے ایمان کے بارے میں بتائیے۔ آپ نے فرمایا: یہ کہ تم اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور آخری دن (یوم قیامت) پر ایمان رکھو اور اچھی اور بری تقدیر پر بھی ایمان لاؤ۔ اس نے کہا: آپ نے درست فرمایا۔ (پھر) اس نے کہا: مجھے احسان کے بارے میں بتائیے۔ آپ نے فرمایا: یہ کہ تم اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو اور اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے تو وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔ اس نے کہا: تو مجھے قیامت کے بارے میں بتائیے۔ آپ نے فرمایا: جس سے اس (قیامت) کے بارے میں سوال کیا جا رہا ہے، وہ پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا۔ اس نے کہا: تو مجھے اس کی علامات بتا دیجیے۔ آپ نے فرمایا: (علامات یہ ہیں کہ) لونڈی اپنی مالکہ کو جنم دے اور یہ کہ تم ننگے پاؤں، ننگے بدن، محتاج، بکریاں چرانے والوں کو دیکھو کہ وہ اونچی سے اونچی عمارتیں بنانے میں ایک دوسرے کے ساتھ مقابلہ کر رہے ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر وہ سائل چلا گیا، میں کچھ دیر اسی عالم میں رہا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کہا: اے عمر! تمہیں معلوم ہے کہ پوچھنے والا کون تھا؟ میں نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول زیادہ آگاہ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ جبرئیل علیہ السلام تھے، تمہارے پاس آئے تھے، تمہیں تمہارا دین سکھا رہے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 93]
مجھے ابو خیثمہ زہیر بن حرب رحمہ اللہ نے وکیع رحمہ اللہ کے واسطے سے کہمس رحمہ اللہ سے سنایا، کہمس کہتے ہیں مجھے عبداللہ بن بریدہ رحمہ اللہ نے یحییٰ بن یعمر رحمہ اللہ سے نقل کیا، نیز امام مسلم رحمہ اللہ کا قول ہے ہمیں عبیداللہ بن معاذ العنبری رحمہ اللہ نے اپنے باپ کے واسطے سے کہمس رحمہ اللہ سے بیان کیا اور یہ الفاظ عنبری رحمہ اللہ کے ہیں (حدیث عنبری کی نقل کی گئی ہے) کہمس رحمہ اللہ، ابن بریدہ رحمہ اللہ کے واسطے سے یحییٰ بن یعمر رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ بصرہ میں سب سے پہلے مسئلہ تقدیر پر گفتگو کا آغاز معبد الجہنی نے کیا، میں (یحییٰ) اور حمید بن عبدالرحمن الحمیری رحمہ اللہ حج یا عمرہ کے ارادے سے نکلے ہم نے آپس میں کہا اے کاش! ہماری ملاقات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں میں سے کسی ایک کے ساتھ ہو جائے تو ہم اس سے (یہ لوگ جو کچھ تقدیر کے بارے میں کہہ رہے ہیں) اس کے بارے میں پوچھ لیں۔ تو اتفاقاً ہماری ملاقات عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مسجد میں داخل ہوتے ہوئے ہوگئی میں اور میرے ساتھی نے انھیں گھیر لیا ہم میں سے ایک ان کے دائیں اور دوسرا ان کے بائیں تھا۔ میں نے خیال کیا میرا ساتھی یقیناً گفتگو کا معاملہ میرے ہی سپرد کرے گا چنانچہ میں نے پوچھا: اے ابو عبدالرحمن! (یہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی کنیت ہے) واقعہ یہ ہے کہ ہمارے علاقے میں کچھ ایسے لوگ ہیں جو قرآن کی قرات کرتے ہیں اور علم کے متلاشی ہیں (اس طرح) ان کے حالات بیان کیے ان لوگوں کا خیال ہے کہ تقدیر کا کوئی مسئلہ نہیں۔ ہر کام نئے سرے سے ہو رہا ہے (اللہ تعالیٰ کو پہلے سے اس کا علم نہیں ہے) حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جب تیری ان لوگوں سے ملاقات ہو تو انھیں بتانا، میں ان سے بری ہوں (ان سے میرا کوئی تعلق نہیں) اور ان کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جس ذات کی قسم اٹھاتا ہے اس کی قسم ان میں سے کسی ایک کے پاس اگر اُحد پہاڑ کے برابر سونا ہو، جسے وہ خرچ کر دے، اللہ تعالیٰ اس سے قبول نہیں فرمائے گا یہاں تک کہ وہ تقدیر پر ایمان لے آئے، پھر کہا: مجھے میرے والد عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ ایک دن ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے اسی اثناء میں اچانک ایک شخص ہمارے سامنے نمودار ہوا جس کے کپڑے انتہائی سفید اور بال بہت ہی زیادہ سیاہ تھے اس پر سفر کے اثرات دکھائی نہ دیتے تھے اور ہم میں سے کوئی ایک بھی اسے جانتا پہچانتا نہ تھا حتی کہ وہ آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھ گیا اور اپنے گھٹنے آپ کے گھٹنوں سے ملا دیے اور اپنی ہتھیلیاں اپنی رانوں پر رکھ لیں (جیسے طالب علم استاد کے سامنے بیٹھتا ہے) اور پوچھا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے اسلام کے بارے میں بتلائیے! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام یہ ہے کہ تو اس بات کا اقرار کرے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی الٰہ نہیں (بندگی اور عبادت کے لائق کوئی نہیں) اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے رسول ہیں۔ نماز کا اہتمام کرے، زکوٰۃ ادا کرتا رہے، رمضان کے روزے رکھے، بیت اللہ کا حج کرے اگر اس تک پہنچنے کی طاقت رکھتا ہو۔ اس نے کہا: آپ نے سچ فرمایا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہمیں اس کی اس بات پر تعجب ہوا کہ یہ شخص پوچھتا ہے اور پھر (خود ہی) تصدیق کرتا ہے۔ اس نے سوال کیا: مجھے ایمان کی حقیقت سے آگاہ کیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اللہ تعالیٰ اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور آخرت کے دن یعنی قیامت کو مان لے اور تقدیر کو خیر کی ہو یا شر کی، تسلیم کر لے۔ اس نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے درست فرمایا۔ اس نے پوچھا: پس مجھے احسان کی حقیقت کی خبر دیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اللہ کی بندگی و طاعت اس طرح کرے گویا کہ تو اسے دیکھ رہا ہے حالانکہ تو اسے نہیں دیکھ رہا یقیناً وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔ اس نے سوال کیا: مجھے قیامت کے بارے میں بتائیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: جس سے قیامت کے بارے میں سوال کیا جا رہا ہے وہ سوال کرنے والے سے زیادہ نہیں جانتا۔ اس نے کہا: تو مجھے اس کی کچھ علامات (نشانیاں) ہی بتا دیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لونڈی اپنی مالکہ کو جنے گی اور تو دیکھے گا ننگے پاؤں، ننگے بدن والے، محتاج، بکریوں کے چرواہے عمارتوں کی تعمیر میں ایک دوسرے پر فخر کریں گے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے: پھر وہ سائل چلا گیا تو میں کچھ عرصہ ٹھہرا رہا بعد میں مجھ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اے عمر! تجھے معلوم ہے سائل کون تھا؟ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی زیادہ جانتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ جبرئیل علیہ السلام تھے تمھارے پاس تمھارا دین سکھانے آئے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 93]
ترقیم فوادعبدالباقی: 8
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه ابوداود في ((سننه))، باب في القدر برقم (4695) والترمذي في ((جامعه)) في الايمان، باب: ماجاء في وصف جبريل للنبي صلى الله عليه وسلم الايمان والاسلام برقم (2610) والنسائي في ((المجتبى)) 97/8-101 فی الایمان، باب: نعت الاسلام برقم (5005) وابن ماجه في ((سننه)) في المقدمة، باب: في الايمان برقم (63) - انظر ((التحفة)) برقم (10572) وهو في ((جامع الاصول)) برقم (2)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 8 ترقیم شاملہ: -- 94
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ وَأَحْمَدُ بْن عَبْدَةَ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، قَالَ: لَمَّا تَكَلَّمَ مَعْبَدٌ بِمَا تَكَلَّمَ بِهِ فِي شَأْنِ الْقَدَرِ أَنْكَرْنَا ذَلِكَ، قَالَ: فَحَجَجْتُ أَنَا وَحُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيُّ حَجَّةً، وَسَاقُوا الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ كَهْمَسٍ وَإِسْنَادِهِ، وَفِيهِ بَعْضُ زِيَادَةٍ، وَنُقْصَانُ أَحْرُفٍ.
کہمس کے بجائے مطر وراق نے عبداللہ بن بریدہ سے، انہوں نے یحییٰ بن یعمر سے نقل کیا کہ جب معبد(جہنی) نے تقدیر کے بارے میں وہ (سب) کہا جو کہا، تو ہم نے اسے سخت ناپسند کیا (یحییٰ نے کہا) میں اور حمید بن عبدالرحمن حمیری نے حج کیا ... اس کے بعد انہوں نے کہمس کے واسطے سے بیان کردہ حدیث کے مطابق حدیث بیان کی، البتہ الفاظ میں کچھ کمی بیشی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 94]
مجھے حماد بن زید رحمہ اللہ کے واسطہ سے مطر الوراق رحمہ اللہ نے بیان کیا، مطر نے عبداللہ بن بریدہ رحمہ اللہ کے واسطے سے یحییٰ بن یعمر رحمہ اللہ سے نقل کیا کہ جب معبد نے تقدیر کے بارے میں جو گفتگو چاہی کی۔ ہم نے اسے بہت عجیب خیال کیا تو میں اور حمید بن عبدالرحمن حمیری رحمہ اللہ نے حج کیا۔ امام مسلم رحمہ اللہ کے تینوں اساتذہ نے کہمس رحمہ اللہ کی روایت اس کی سند سے بیان کی اور الفاظ میں کچھ کمی بیشی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 94]
ترقیم فوادعبدالباقی: 8
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انظر الحديث السابق برقم (93)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 8 ترقیم شاملہ: -- 95
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ وَحُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَا: لَقِينَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، فَذَكَرْنَا الْقَدَرَ وَمَا يَقُولُونَ فِيهِ، فَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ كَنَحْوِ حَدِيثِهِمْ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِيهِ شَيْءٌ مِنْ زِيَادَةٍ، وَقَدْ نَقَصَ مِنْهُ شَيْئًا.
(عبداللہ بن بریدہ کے ایک تیسرے شاگرد) عثمان بن غیاث نے یحییٰ بن یعمر اور حمید بن عبدالرحمن دونوں سے روایت کی، دونوں نے کہا: ہم عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ملے اور ہم سے تقدیر کی بات کی اور وہ لوگ (منکرین تقدیر) جو کچھ کہتے ہیں، اس کا ذکر کیا۔ اس کے بعد (عثمان بن غیاث نے) سابقہ راویوں کے مطابق حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کی۔ اس روایت میں کچھ الفاظ زیادہ ہیں اور کچھ انہوں نے کم کیے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 95]
عبداللہ بن بریدہ رحمہ اللہ نے یحییٰ بن یعمر رحمہ اللہ اور حمید بن عبدالرحمن رحمہ اللہ دونوں سے نقل کیا کہ ہم عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو ملے اور ہم نے تقدیر کا تذکرہ کیا اور منکرینِ تقدیر کا تذکرہ کیا اور منکرینِ تقدیر کا قول نقل کیا۔ محمد بن حاتم نے بھی امام صاحب کے مذکورہ بالا اساتذہ کی طرح حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی اس میں کچھ اضافہ ہے اور کچھ کمی بھی کی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 95]
ترقیم فوادعبدالباقی: 8
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه ابوداؤد في ((سننه)) في السنة، باب: في القدر برقم (4696) انظر ((التحفة)) برقم (10516 و 10572) وهو في ((جامع الاصول)) برقم (2)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 8 ترقیم شاملہ: -- 96
وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِر ِ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ.
معتمر کے والد (سلیمان بن طرخان) نے یحییٰ بن یعمر سے، انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی جس طرح مذکورہ اساتذہ نے روایت کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 96]
معتمر رحمہ اللہ نے اپنے باپ کے حوالہ سے یحییٰ بن یعمر رحمہ اللہ کی عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی روایت بیان کی جو مذکورہ بالا اساتذہ کی حدیث جیسی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 96]
ترقیم فوادعبدالباقی: 8
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه في الحديث قبل السابق برقم (93)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں