🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1655. ‏(‏100‏)‏ بَابُ إِعْطَاءِ الْإِمَامِ دِيَةَ مَنْ لَا يُعْرَفُ قَاتِلُهُ مِنَ الصَّدَقَةِ،
جس مقتول کے قاتل کا علم نہ ہوسکے اُس کی دیت امام زکوٰۃ کے مال سے ادا کرسکتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q2384
وَهَذَا عِنْدِي مِنْ جِنْسِ الْحِمَالَةِ لِشَبَهٍ أَنْ يَكُونَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُحُمِّلَ بِهَذِهِ الدِّيَةِ فَأَعْطَاهَا مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ
اور یہ مسئلہ میرے نزدیک حمالہ (کسی کی دیت یا تاوان وغیرہ اپنے ذمے لے لینا) کے باب سے ہے کیونکہ ممکن ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیت اپنے ذمے لے لی ہو پھر زکوٰۃ کے اونٹوں سے اس کی ادائیگی کی ہو [صحيح ابن خزيمه/جماع أَبْوَابِ قَسْمِ الْصَّدَقَاتِ وَذِكْرِ أَهْلِ سُهْمَانِهَا/حدیث: Q2384]
تخریج الحدیث:

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2384
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ يَعْنِي ابْنَ سُعَيْرِ بْنِ الْخِمْسِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّائِيُّ ، حَدَّثَنَا بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ، أَنَّ رَجُلا مِنْ أَهْلِهِ يُقَالُ لَهُ: ابْنُ أَبِي حَثْمَةَ ، أَخْبَرَهُ أَنَّ نَفَرًا مِنْهُمُ انْطَلَقُوا إِلَى خَيْبَرَ، فَتَفَرَّقُوا فِيهَا، فَوَجَدُوا أَحَدَهُمْ قَتِيلا، فَقَالُوا: لِلَّذِينَ وَجَدُوهُ عِنْدَهُمْ: قَتَلْتُمْ صَاحِبَنَا، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا انْطَلَقْنَا إِلَى خَيْبَرَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَالَ فِي آخِرِهِ: " فَكَرِهَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُطَلَّ دَمُهُ، فَفَدَاهُ بِمِائَةٍ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ"
جناب بشیر بن بسیار بیان کرتے ہیں کہ ان کے خاندان کے ایک فرد جسے ابن ابی حثمہ کہا جاتا ہے اس نے انہیں خبردی کہ ان کے چند افراد خیبر گئے اور وہاں (اپنے اپنے کام کے سلسلے میں) منتشر ہوگئے۔ پھر اُنہوں نے اپنے ایک ساتھی کو مقتول پایا۔ تو اُنہوں نے اُن لوگوں سے کہا جن کے علاقے سے وہ ملا تھا، تم نے ہمارے ساتھی کا قتل کیا ہے۔ (ان کے انکار پر) اُن لوگوں نے اللہ کے رسول کی خدمت میں حاضر ہوکر کہا کہ ہم خیبر گئے تھے۔ پھر باقی حدیث ذکر کی اس حدیث کے آخری الفاظ یہ ہیں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا خون رائیگاں قرار دینا پسند نہ کیا، لہٰذا زکوٰۃ کے اونٹوں میں سے سو اونٹ اس کی دیت ادا کر دی۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أَبْوَابِ قَسْمِ الْصَّدَقَاتِ وَذِكْرِ أَهْلِ سُهْمَانِهَا/حدیث: 2384]
تخریج الحدیث: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں