صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1676. (121) بَابُ ذِكْرِ أَوَّلِ مَا أُحْدِثَ الْأَمْرُ بِنِصْفِ صَاعٍ حِنْطَةَ، وَذِكْرِ أَوَّلِ مَنْ أَحْدَثَهُ.
سب سے پہلے کب آدھا صاع گندم فطر دینے کا شروع ہوا؟ اور اس کی ابتداء کرنے والے کا بیان
حدیث نمبر: 2408
حَدَّثَنَا ابْنُ حُجْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ هُوَ ابْنُ قَيْسٍ الْفَرَّاءُ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ:" كُنَّا نُخْرِجُ زَكَاةَ الْفِطْرِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَاعًا مِنْ طَعَامٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ أَقِطٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ زَبِيبٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ ، فَلَمْ نَزَلْ نُخْرِجُهُ، حَتَّى قَدِمَ عَلَيْنَا مُعَاوِيَةُ مِنَ الشَّامِ حَاجًّا أَوْ مُعْتَمِرًا، وَهُوَ يَوْمَئِذٍ خَلِيفَةٌ، فَخَطَبَ النَّاسَ عَلَى مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ثُمَّ ذَكَرَ زَكَاةَ الْفِطْرِ، فَقَالَ: إِنِّي لأَرَى مُدَّيْنِ مِنْ سَمْرَاءِ الشَّامِ تَعْدِلُ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، فَكَانَ أَوَّلُ مَنْ ذَكَّرَ النَّاسَ بِالْمُدَّيْنِ حِينَئِذٍ"
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں صدقہ فطر ایک صاع طعام یا ایک صاع پنیر، یا ایک صاع کھجور یا ایک صاع کشمش یا ایک صاع جَو ادا کیا کرتے تھے۔ پھر ہم اسی طرح صدقہ فطر ادا کرتے رہے حتّیٰ کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ شام سے حج یا عمرے کے لئے ہمارے پاس تشریف لائے۔ وہ ان دنوں خلیفہ تھے۔ تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر پو لوگوں سے خطاب کیا۔ پھر صدقہ فطر کا تذکرہ کیا تو کہنے لگے کہ میرے خیال میں ملک شام کی گندم کے دو مد ایک صاع کھجور کے برابر ہیں۔ اس طرح وہ پہلے شخص تھے جس نے اس وقت لوگوں سے (گندم کے) دومد (صدقہ فطر ادا کرنے) کا تذکرہ کیا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أَبْوَابِ صَدَقَةِ الْفِطْرِ فِي رَمَضَانَ/حدیث: 2408]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1505، 1506، 1508، 1510، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 985،، ومالك فى (الموطأ) برقم: 990، وابن الجارود فى "المنتقى"، 393، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2407، 2408، 2413، 2414، 2418، 2419، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3305، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1500، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2510، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1616، 1618، والترمذي فى (جامعه) برقم: 673، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1829، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7766، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2096، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11249»