صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1691. (136) بَابُ فَضْلِ الْمُتَصَدِّقِ عَلَى الْمُتَصَدَّقِ عَلَيْهِ
صدقہ دینے والے کی صدقہ لینے والے پر فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 2435
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُسْلِمٍ الْهَجَرِيِّ . ح وَحَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ الْهَجَرِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " الأَيْدِي الثَّلاثَةُ: يَدُ اللَّهِ الْعُلْيَا، وَيَدُ الْمُعْطِي الَّتِي تَلِيَهَا، وَيَدُ السَّائِلِ السُّفْلَى إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، فَاسْتَعِفَّ عَنِ السُّؤَالِ مَا اسْتَطَعْتَ" ، قَالَ يُوسُفُ: عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، وَقَالَ: الَّتِي تَلِيَهَا، وَقَالَ: فَاسْتَعِفُّوا عَنِ السُّؤَالِ مَا اسْتَطَعْتُمْ، هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ بُنْدَارٍ
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاتھ تین قسم کے ہیں، اللہ تعالیٰ کا ہاتھ بلند و برتر ہے۔ اس کے بعد صدقہ دینے والے کا ہاتھ ہے۔ اور سوال کرنے والے کا ہاتھ قیامت تک نیچے ہے لہذا تم حسب طاقت سوال کرنے سے بچو “ جناب ابو الاحوص کی روایت میں ہے کہ جو اس کے بعد ہے اور کہا، لہٰذا تم مانگنے سے بچو حتّیٰ الوسع بچو۔ یہ جناب بندار کی حدیث کے الفاظ ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جُمَّاعُ أَبْوَابِ صَدَقَةِ التَّطَوُّعِ/حدیث: 2435]
تخریج الحدیث: اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 2436
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " خَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا أَبْقَتْ غَنَاءً، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى، وَابْدَأْ مَنْ تَعُولُ، تَقُولُ امْرَأَتُكَ: أَنْفِقْ عَلَيَّ أَوْ طَلِّقْنِي، وَيَقُولُ مَمْلُوكُكَ: أَنْفِقْ عَلَيَّ أَوْ بِعْنِي، وَيَقُولُ وَلَدُكَ: إِلَى مَنْ تَكِلُنَا"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”بہترین صدقہ وہ ہے جس سے خوشحالی اور مالداری باقی رہے اور اوپر والا ہاتھ (صدقہ کرنے والا) نیچے والے ہاتھ (صدقہ لینے والے) سے بہتر ہے اور صدقہ دینا اُن لوگوں سے شروع کرجن کا خرچہ تیرے ذمے ہے۔ تمھاری بیوی کہتی ہے کہ مجھ پرخرچ کرو یا مجھے طلاق دے دو۔ تمھارا غلام بھی کہتا ہے کہ مجھ پر خرچ کرو یا مجھے بیچ دو اور تمھارا بیٹا کہتا ہے کہ مجھے کس کے سپرد کرتے ہو؟“ [صحيح ابن خزيمه/جُمَّاعُ أَبْوَابِ صَدَقَةِ التَّطَوُّعِ/حدیث: 2436]
تخریج الحدیث: صحيح بخاري