صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1887. (146) بَابُ الرُّخْصَةِ فِي اسْتِظْلَالِ الْمُحْرِمِ وَإِنْ كَانَ نَازِلًا غَيْرَ سَائِرٍ
محرم سایہ حاصل کر سکتا ہے اگرچہ وہ کسی جگہ ٹھرا ہوا ہو اور سفر نہ کر رہا ہو۔
حدیث نمبر: Q2687
ضِدَّ قَوْلِ مَنْ كَرِهَهُ وَنَهَى عَنْهُ
ان علماء کے موقف کے برخلاف جو اسے مکروہ سمجھتے ہیں اور محرم کو سایہ حاصل کرنے سے منع کرتے ہیں [صحيح ابن خزيمه/جماع أَبْوَابِ ذِكْرِ أَفْعَالٍ اخْتَلَفَ النَّاسُ فِي إِبَاحَتِهِ لِلْمُحْرِمِ، نَصَّتْ سُنَّةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ دَلَّتْ عَلَى إِبَاحَتِهَا/حدیث: Q2687]
تخریج الحدیث:
حدیث نمبر: 2687
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ النُّفَيْلِيِّ ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ، وَقَالَ:" أَمَرَ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقُبَّةٍ لَهُ مِنْ شَعْرٍ، فَضُرِبَتْ لَهُ بِنَمِرَةٍ، فَسَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَتَى عَرَفَةَ , فَوَجَدَ الْقُبَّةَ قَدْ ضُرِبَتْ لَهُ بِنَمِرَةٍ، فَنَزَلَ بِهَا"
جناب محمد بیان کرتے ہیں کہ ہم سیدنا جابر بن عبد الله رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ پھر مکمّل حدیث بیان کی۔ اور فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لئے بالوں کا بنا ہوا ایک خیمه لگانے کا حُکم دیا تو وہ نمره وادی میں لگا دیا گیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلتے رہے حتّیٰ کہ عرفات پہنچ گئے۔ آپ نے دیکھا کہ وادی نمرہ میں آپ کے لئے خیمہ لگا دیا گیا ہے تو آپ اس میں تشریف فرما ہوگئے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أَبْوَابِ ذِكْرِ أَفْعَالٍ اخْتَلَفَ النَّاسُ فِي إِبَاحَتِهِ لِلْمُحْرِمِ، نَصَّتْ سُنَّةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ دَلَّتْ عَلَى إِبَاحَتِهَا/حدیث: 2687]
تخریج الحدیث: تقدم۔۔۔