🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1906. ‏(‏165‏)‏ بَابُ الْبُكَاءِ عِنْدَ تَقْبِيلِ الْحَجَرِ الْأَسْوَدِ، وَفِي الْقَلْبِ مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَوْنٍ هَذَا،
حجر اسود کو بوسہ دیتے ہوئے رونے کا بیان۔ میرا دل محمد بن عون کے بارے میں مطمئن نہیں ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q2712
وَوَضْعِ الْيَدَيْنِ عَلَى الْحَجَرِ، وَمَسْحِ الْوَجْهِ بِهِمَا، وَلَكِنْ خَبَرُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ثَابِتٌ
دونوں ہاتھ حجر اسود پر رکھنے اور ان کو چہرے پر پھیرنے کا بیان۔ محمد بن علی کی حدیث ثابت ہے [صحيح ابن خزيمه/جماع أَبْوَابِ ذِكْرِ أَفْعَالٍ اخْتَلَفَ النَّاسُ فِي إِبَاحَتِهِ لِلْمُحْرِمِ، نَصَّتْ سُنَّةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ دَلَّتْ عَلَى إِبَاحَتِهَا/حدیث: Q2712]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2712
حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شِيبَ ، نا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْنٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: اسْتَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَجَرَ فَاسْتَلَمَهُ، ثُمَّ وَضَعَ شَفَتَيْهِ عَلَيْهِ يَبْكِي طَوِيلا، فَالْتَفَتُّ، فَإِذَا هُوَ بِعُمَرَ يَبْكِي، فَقَالَ:" يَا عُمَرُ، هَا هُنَا تُسْكَبُ الْعَبَرَاتُ"
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا چہرہ مبارک حجراسود کی طرف کیا اور حجر اسود کا استلام کیا۔ پھر آپ نے اپنے ہونٹ اس پر رکھ دیئے اور دیر تک روتے رہے پھر مڑ کر دیکھا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی رو رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عمر، اس جگہ آنسو بہائے جاتے ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أَبْوَابِ ذِكْرِ أَفْعَالٍ اخْتَلَفَ النَّاسُ فِي إِبَاحَتِهِ لِلْمُحْرِمِ، نَصَّتْ سُنَّةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ دَلَّتْ عَلَى إِبَاحَتِهَا/حدیث: 2712]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2712، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1676، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2945، وعبد بن حميد فى "المنتخب من مسنده"، 760، والبزار فى (مسنده) برقم: 5928»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2713
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ وَهُوَ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: فَدَخَلْنَا مَكَّةَ حِينَ ارْتِفَاعِ الضُّحَى، فَأَتَى يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَابَ الْمَسْجِدِ، فَأَنَاخَ رَاحِلَتَهُ، ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَبَدَأَ بِالْحَجَرِ فَاسْتَلَمَ، وَفَاضَتْ عَيْنَاهُ بِالْبُكَاءِ"، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ:" وَرَمَلَ ثَلاثًا، وَمَشَى أَرْبَعًا، حَتَّى فَرَغَ، فَلَمَّا فَرَغَ قَبَّلَ الْحَجَرَ وَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَيْهِ، ثُمَّ مَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ"
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم چاشت کے وقت مکّہ مکرّمہ میں داخل ہوئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد حرام کے دروازے پر آئے اور اپنی اونٹنی کو بٹھایا پھر مسجد حرام میں داخل ہوئے، آپ نے حجر اسود سے ابتداء کی، اس کا استلام کیا تو آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے پھر بقیہ حدیث بیان کی۔ اور فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف کے تین چکّروں میں دلکی چال چلی اور چار چکّر عام رفتار سے لگائے، جب آپ طواف سے فارغ ہوگئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود کو بوسہ دیا، اپنے دونوں ہاتھ اس پر رکھے اور پھر انہیں اپنے چہرے مبارک پر ملا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أَبْوَابِ ذِكْرِ أَفْعَالٍ اخْتَلَفَ النَّاسُ فِي إِبَاحَتِهِ لِلْمُحْرِمِ، نَصَّتْ سُنَّةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ دَلَّتْ عَلَى إِبَاحَتِهَا/حدیث: 2713]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1557، 1568، 1570، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1213، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1340، وابن الجارود فى "المنتقى"، 500، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 957، 2534، 2603، 2620، 2626، 2687، 2709، 2713، 2717، 2718، 2754، 2755، 2756، 2757، 2778، 2785، 2786، 2787، 2794، 2802، 2809، 2811، 2812، 2815، 2826، 2835، 2853، 2855، 2857، 2858، 2862، 2864، 2875، 2876، 2877، 2890، 2892، 2900، 2901، 2924، 2926، 2944، 2968، 2969، 3025، 3026، 3056، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1457، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1785، والترمذي فى (جامعه) برقم: 817، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1008، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 400، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2533، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11942»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں