🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1983. ‏(‏242‏)‏ بَابُ الْوُقُوفِ بِعَرَفَةَ، وَالرُّخْصَةِ لِلْحَاجِّ أَنْ يَقِفُوا حَيْثُ شَاءُوا مِنْهُ، وَجَمِيعُ عَرَفَةَ مَوْقِفٌ‏.‏
وقوف عرفات کا بیان، حاجی کے لئے رخصت ہے کہ وہ عرفات میں جہاں چاہے وقوف کرلے کیونکہ سارا عرفات وقوف کی جگہ ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2815
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: أَتَيْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، فَسَأَلْنَاهُ عَنْ حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ، فَقَالَ:" وَقَفْتُ هَهُنَا، وَعَرَفَةُ كُلُّهَا مَوْقِفٌ"
جناب جعفر بن محمد اپنے والد محترم سے بیان کرتے ہیں کہ اُنھوں نے فرمایا، ہم سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے پاس آئے تو ہم نے اُن سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے بارے میں سوال کیا۔ اُنھوں نے فرمایا کہ رسول اللہ نے عرفات میں وقوف کیا اور فرمایا: میں اس جگہ ٹھہرا ہوں اور سارا میدان عرفات ٹھہرنے کی جگہ ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أَبْوَابِ ذِكْرِ أَفْعَالٍ اخْتَلَفَ النَّاسُ فِي إِبَاحَتِهِ لِلْمُحْرِمِ، نَصَّتْ سُنَّةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ دَلَّتْ عَلَى إِبَاحَتِهَا/حدیث: 2815]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1557، 1568، 1570، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1213، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1340، وابن الجارود فى "المنتقى"، 500، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 957، 2534، 2603، 2620، 2626، 2687، 2709، 2713، 2717، 2718، 2754، 2755، 2756، 2757، 2778، 2785، 2786، 2787، 2794، 2802، 2809، 2811، 2812، 2815، 2826، 2835، 2853، 2855، 2857، 2858، 2862، 2864، 2875، 2876، 2877، 2890، 2892، 2900، 2901، 2924، 2926، 2944، 2968، 2969، 3025، 3026، 3056، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1457، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1785، والترمذي فى (جامعه) برقم: 817، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1008، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 400، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2533، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11942»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں