🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1990. ‏(‏249‏)‏ بَابُ رَفْعِ الْيَدَيْنِ فِي الدُّعَاءِ عِنْدَ الْوُقُوفِ بِعَرَفَةَ، وَإِبَاحَةِ رَفْعِ إِحْدَى الْيَدَيْنِ إِذَا احْتَاجَ الرَّاكِبُ إِلَى حِفْظِ الْعِنَانِ أَوِ الْخِطَامِ بِإِحْدَى الْيَدَيْنِ‏.‏
وقوف عرفہ کے دوران دعا کرتے وقت دونوں ہاتھ اُٹھانے کا بیان اگر سوار نے ہاتھ میں سواری کی نکیل یا مہار پکڑنی ہو تو ایک ہاتھ اُٹھا کر دعا کرنا بھی جائز ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2824
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أنا عَبْدُ الْمَلَكِ ، أَخْبَرَنَا عَطَاءٌ ، قَالَ: قَالَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ :" كُنْتُ رِدْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَاتٍ، فَرَفَعَ يَدَيْهِ فَمَالَتْ بِهِ نَاقَتُهُ فَسَقَطَ خِطَامُهَا، فَتَنَاوَلَ الْخِطَامُ بِإِحْدَى يَدَيْهِ، وَهُوَ رَافِعُ يَدَهُ الأُخْرَى"
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں عرفات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اونٹنی پر سوار تھا۔ آپ نے دعا کے لئے دونوں ہاتھ بلند کیے تو آپ کی اونٹنی نے آپ کو ایک جانب جھکا دیا جس سے اُس کی نکیل گرگئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکیل ایک ہاتھ میں پکڑلی اور دوسرا ہاتھ دعا کے لئے اُٹھا لیا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أَبْوَابِ ذِكْرِ أَفْعَالٍ اخْتَلَفَ النَّاسُ فِي إِبَاحَتِهِ لِلْمُحْرِمِ، نَصَّتْ سُنَّةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ دَلَّتْ عَلَى إِبَاحَتِهَا/حدیث: 2824]
تخریج الحدیث: اسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2825
ثَنَاهُ يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلَكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَاتٍ، وَرِدْفُهُ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: فَمَالَتْ بِهِ النَّاقَةُ وَهُوَ رَافِعٌ يَدَيْهِ مَا تُجَاوِزَانِ رَأْسَهُ حَتَّى انْتَهَى إِلَى جَمْعٍ، وَأَفَاضَ مِنْ جَمْعٍ، وَرِدْفُهُ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ، فَقَالَ الْفَضْلُ: مَا زَالَ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ"
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے واپس لوٹے اور سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کو اپنے پیچھے سوار کرلیا۔ آپ کی اونٹنی نے آپ کو ایک طرف جھکا دیا جبکہ آپ نے دونوں ہاتھ دعا کے لئے اُٹھائے ہوئے تھے مگر وہ سرسے اونچے نہیں تھے حتّیٰ کہ آپ مزدلفہ پہنچ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مزدلفہ سے واپس روانہ ہوئے تو سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما آپ کے پیچھے سوار تھے۔ سیدنا فضل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جمره عقب کو کنکریاں مارنے تک آپ مسلسل تلبیہ پڑھتے رہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أَبْوَابِ ذِكْرِ أَفْعَالٍ اخْتَلَفَ النَّاسُ فِي إِبَاحَتِهِ لِلْمُحْرِمِ، نَصَّتْ سُنَّةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ دَلَّتْ عَلَى إِبَاحَتِهَا/حدیث: 2825]
تخریج الحدیث:

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں