صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
14. بَابُ كَمْ بَيْنَ الأَذَانِ وَالإِقَامَةِ وَمَنْ يَنْتَظِرُ الإِقَامَةَ:
باب: اس بیان میں کہ اذان اور تکبیر کے درمیان کتنا فاصلہ ہونا چاہیے؟
حدیث نمبر: 624
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الْوَاسِطِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلَاةٌ ثَلَاثًا لِمَنْ شَاءَ".
ہم سے اسحاق بن شاہین واسطی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے خالد بن عبداللہ طحان نے سعد بن ایاس جریری سے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن بریدہ سے، انہوں نے عبداللہ بن مغفل مزنی سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا کہ ہر دو اذانوں (اذان و اقامت) کے درمیان ایک نماز (کا فصل) دوسری نماز سے ہونا چاہیے (تیسری مرتبہ فرمایا کہ) جو شخص ایسا کرنا چاہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَذَانِ/حدیث: 624]
حضرت عبداللہ بن مغفل مزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر دو اذانوں (اذان و اقامت) کے درمیان نماز ہے۔“ آپ نے تین دفعہ یہ الفاظ کہے، پھر فرمایا: ”یہ نماز اس شخص کے لیے ہے جو پڑھنا چاہے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَذَانِ/حدیث: 624]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 625
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ عَامِرٍ الْأَنْصَارِيَّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:" كَانَ الْمُؤَذِّنُ إِذَا أَذَّنَ قَامَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْتَدِرُونَ السَّوَارِيَ حَتَّى يَخْرُجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُمْ كَذَلِكَ يُصَلُّونَ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ، وَلَمْ يَكُنْ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ شَيْءٌ"، قَالَ عُثْمَانُ بْنُ جَبَلَةَ: وَأَبُو دَاوُدَ، عَنْ شُعْبَةَ، لَمْ يَكُنْ بَيْنَهُمَا إِلَّا قَلِيلٌ.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے محمد بن جعفر غندر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے شعبہ بن حجاج نے بیان کیا، کہا کہ میں نے عمرو بن عامر انصاری سے سنا، وہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے تھے کہ آپ نے فرمایا کہ (عہدرسالت میں) جب مؤذن اذان دیتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ ستونوں کی طرف لپکتے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے حجرہ سے باہر تشریف لاتے تو لوگ اسی طرح نماز پڑھتے ہوئے ملتے۔ یہ جماعت مغرب سے پہلے کی دو رکعتیں تھیں۔ اور (مغرب میں) اذان اور تکبیر میں کوئی زیادہ فاصلہ نہیں ہوتا تھا۔ اور عثمان بن جبلہ اور ابوداؤد طیالسی نے شعبہ سے اس (حدیث میں یوں نقل کیا ہے کہ) اذان اور تکبیر میں بہت تھوڑا سا فاصلہ ہوتا تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَذَانِ/حدیث: 625]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب مؤذن اذان کہتا تھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام میں سے کچھ حضرات کھڑے ہوتے اور ستونوں کے پاس جانے میں جلدی کرتے تھے، یہاں تک کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لاتے تو وہ بھی اسی طرح مغرب سے پہلے دو رکعت نماز پڑھ رہے ہوتے تھے، نیز اذان اور تکبیر کے درمیان کچھ زیادہ فاصلہ نہیں ہوتا تھا۔ عثمان بن جبلہ اور ابوداؤد حضرت شعبہ رحمہ اللہ سے بیان کرتے ہیں کہ ان دونوں کے درمیان بہت کم فاصلہ ہوتا تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَذَانِ/حدیث: 625]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة