🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

2015. ‏(‏274‏)‏ بَابُ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ لِصَلَاةِ الْفَجْرِ بِالْمُزْدَلِفَةِ
مزدلفہ میں فجر کی نماز کے لئے اذان اور اقامت کہنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2855
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى , حَدَّثَنَا عِبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ , حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ , عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَابِرٍ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَالَ: " فَصَلَّى الْفَجْرَ حِينَ تَبَيَّنَ لَهُ الصُّبْحُ , يَعْنِي بِالْمُزْدَلِفَةِ . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَالَ لَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى , قَالَ لَنَا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ , عَنْ حَاتِمٍ فِي هَذَا الْخَبَرِ فِي هَذَا الْمَوْضِعِ , بِأَذَانٍ وَإِقَامَةٍ. فِي خَبَرِ جَابِرٍ دَلالَةٌ وَاضِحَةٌ عَلَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الْفَجْرَ بِالْمُزْدَلِفَةِ فِي أَوَّلِ وَقْتِهَا بَعْدَ مَا بَانَ لَهُ الصُّبْحُ , لا قَبْلَ تَبَيَّنَ لَهُ الصُّبْحُ , وَفِي هَذَا مَا دَلَّ عَلَى أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ أَرَادَ بِقَوْلِهِ: وَصَلَّى الْفَجْرَ قَبْلَ وَقْتِهَا بِغَلَسِ أَيْ قَبْلَ وَقْتِهَا الَّذِي كَانَ يُصَلِّيهَا بِغَيْرِ الْمُزْدَلِفَةِ أَيْ أَنَّهُ غَلَسٌ بِالْفَجْرِ أَشَدُّ تَغْلِيسًا مِمَّا كَانَ يُغَلِّسُ بِهَا فِي غَيْرِ ذَلِكَ الْمَوْضِعَ. وَخَبَرُ ابْنِ عَمْرٍ الَّذِي يَلِي هَذَا الْبَابَ دَالٌّ عَلَى مِثْلِ مَا دَلَّ عَلَيْهِ خَبَرُ جَابِرٍ لأَنَّ فِي خَبَرِ ابْنِ عُمَرَ: يَبِيتُ بِالْمُزْدَلِفَةِ حَتَّى يُصْبِحَ ثُمَّ يُصَلِّي الصُّبْحَ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے بارے میں طویل حدیث بیان کی ہے۔ اس میں فرمایا کہ جب صبح نمودار ہوگئی تو آپ نے مزدلفہ میں صبح کی نماز ادا کی۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ جناب محمد بن یحییٰ نے حسن بن بشر کے واسطے سے حاتم سے اس حدیث میں اس جگہ پر یہ الفاظ بیان کیے ہیں کہ اذان اور اقامت کے ساتھ (نماز پڑھی) سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی روایت میں واضح دلیل موجود ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ میں فجر کی نماز طلوع فجر کے بعد پہلے وقت میں ادا فرمائی ہے، طلوع فجر کے واضح ہونے سے پہلے ادا نہیں کی۔ اور اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے اس فرمان کہ آپ نے فجر کی نماز اس کے وقت سے پہلے اندھیرے میں پڑھی، ان کی مراد یہ ہے کہ آپ نے دوسری جگہوں کی نسبت مزدلفہ میں زیادہ سویرے نماز پڑھی تھی۔ لیکن آپ نے دوسرے مقامات کی نسبت مزدلفہ میں فجر کی نماز زیاده اندھیرے میں ادا کی تھی۔ آئنده باب میں مذکورہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت میں بھی سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی روایت کی طرح دلیل موجود ہے کیونکہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت میں ہے کہ آپ نے رات مزدلفہ میں بسر کی حتّیٰ کہ جب صبح ہوئی تو آپ نے صبح کی نماز ادا کی۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أَبْوَابِ ذِكْرِ أَفْعَالٍ اخْتَلَفَ النَّاسُ فِي إِبَاحَتِهِ لِلْمُحْرِمِ، نَصَّتْ سُنَّةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ دَلَّتْ عَلَى إِبَاحَتِهَا/حدیث: 2855]
تخریج الحدیث: تقدم۔۔۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں