🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

48. باب غِلَظِ تَحْرِيمِ الْغُلُولِ وَأَنَّهُ لاَ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلاَّ الْمُؤْمِنُونَ:
باب: مال غنیمت میں خیانت کرنے کی حرمت اور یہ کہ جنت میں صرف مومن ہی داخل ہوں گے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 114 ترقیم شاملہ: -- 309
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سِمَاكٌ الْحَنَفِيُّ أَبُو زُمَيْلٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ خَيْبَرَ، أَقْبَلَ نَفَرٌ مِنْ صَحَابَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: فُلَانٌ شَهِيدٌ، فُلَانٌ شَهِيدٌ، حَتَّى مَرُّوا عَلَى رَجُلٍ، فَقَالُوا: فُلَانٌ شَهِيدٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَلَّا إِنِّي رَأَيْتُهُ فِي النَّارِ فِي بُرْدَةٍ غَلَّهَا أَوْ عَبَاءَةٍ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا ابْنَ الْخَطَّابِ، اذْهَبْ فَنَادِ فِي النَّاسِ، أَنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ، إِلَّا الْمُؤْمِنُونَ، قَالَ: فَخَرَجْتُ، فَنَادَيْتُ، " أَلَا إِنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ، إِلَّا الْمُؤْمِنُونَ ".
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: مجھے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما نے حدیث سنائی، کہا: خیبر (کی جنگ) کا دن تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ صحابہ آئے اور کہنے لگے: فلاں شہید ہے، فلاں شہید ہے، یہاں تک کہ ایک آدمی کا تذکرہ ہوا تو کہنے لگے: وہ شہید ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہرگز نہیں، میں نے اسے ایک دھاری دار چادر یا عبا (چوری کرنے) کی وجہ سے آگ میں دیکھا ہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے خطاب کے بیٹے! جا کر لوگوں میں اعلان کر دو کہ جنت میں مومنوں کے سوا کوئی داخل نہ ہو گا۔ انہوں نے کہا: میں باہر نکلا اور (لوگوں میں) اعلان کیا: متنبہ رہو! جنت میں مومنوں کے سوا اور کوئی داخل نہ ہو گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 309]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت سنائی کہ جب خیبر کا دن تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ ساتھی آئے اور کہنے لگے: فلاں شہید اور فلاں شہید ہوا، یہاں تک کہ ایک آدمی کا تذکرہ ہوا۔ تو کہنے لگے: وہ شہید ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ہر گز نہیں، میں نے اسے ایک دھاری دار چادر یا عباء کی خیانت کرنے کی بناء پر آگ میں دیکھا ہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے خطاب کے بیٹے! لوگوں میں جا کر اعلان کر دو کہ جنت میں صرف مومن داخل ہوں گے۔ تو میں نے نکل کر (لوگوں میں) اعلان کیا: خبردار ہو جاؤ! جنت میں صرف مومن داخل ہوں گے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 309]
ترقیم فوادعبدالباقی: 114
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه الترمذي في ((جامعه)) في السير، باب: ما جاء في الغلول، باختصار، قال: هذا حديث حسن صحيح غريب برقم (1574) انظر ((التحفة)) برقم (10497)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 115 ترقیم شاملہ: -- 310
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدُّؤَلِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي الْغَيْثِ مَوْلَى ابْنِ مُطِيعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَهَذَا حَدِيثُهُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، عَنْ ثَوْرٍ ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَيْبَرَ، فَفَتَحَ اللَّهُ عَلَيْنَا، فَلَمْ نَغْنَمْ ذَهَبًا، وَلَا وَرِقًا، غَنِمْنَا الْمَتَاعَ، وَالطَّعَامَ، وَالثِّيَابَ، ثُمَّ انْطَلَقْنَا إِلَى الْوَادِي، وَمَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدٌ لَهُ وَهَبَهُ، لَهُ رَجُلٌ مِنْ جُذَامٍ يُدْعَى رِفَاعَةَ بْنَ زَيْدٍ مِنْ بَنِي الضُّبَيْبِ، فَلَمَّا نَزَلْنَا الْوَادِي، قَامَ عَبْدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحُلُّ رَحْلَهُ، فَرُمِيَ بِسَهْمٍ فَكَانَ فِيهِ حَتْفُهُ، فَقُلْنَا: هَنِيئًا لَهُ الشَّهَادَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَلَّا، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ إِنَّ الشَّمْلَةَ لَتَلْتَهِبُ عَلَيْهِ نَارًا، أَخَذَهَا مِنَ الْغَنَائِمِ يَوْمَ خَيْبَرَ لَمْ تُصِبْهَا الْمَقَاسِمُ، قَالَ: فَفَزِعَ النَّاسُ، فَجَاءَ رَجُلٌ بِشِرَاكٍ، أَوْ شِرَاكَيْنِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَصَبْتُ يَوْمَ خَيْبَرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " شِرَاكٌ مِنَ نَارٍ، أَوْ شِرَاكَانِ مِنَ نَارٍ ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں خیبر کی طرف نکلے، اللہ نے ہمیں فتح عنایت فرمائی، غنیمت میں ہمیں سونا یا چاندی نہ ملا، غنیمت میں سامان، غلہ اور کپڑے ملے، پھر ہم وادی (القری) کی طرف چل پڑے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کا ایک غلام تھا جو جذام قبیلے کے ایک آدمی نے، جسے رفاعہ بن زید کہا جاتا تھا اور (جذام کی شاخ) بنو صبیب سے اس کا تعلق تھا، آپ کو ہبہ کیا تھا۔ جب ہم نے اس وادی میں پڑاؤ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا (یہ) غلام آپ کا پالان کھولنے کے لیے اٹھا، اسے (دور سے) تیر کا نشانہ بنایا گیا اور اسی سے اس کی موت واقع ہو گئی۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! اسے شہادت مبارک ہو۔ آپ نے فرمایا: ہرگز نہیں! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے! اوڑھنے کی وہ چادر اس پر آگ کے شعلے برسا رہی ہے جو اس نے خیبر کے دن اس کے تقسیم ہونے سے پہلے اٹھائی تھی۔ یہ سن کر لوگ خوف زدہ ہو گئے، ایک آدمی ایک یا دو تسمے لے آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! خیبر کے دن میں نے لیے تھے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آگ کا ایک تسمہ ہے یا آگ کے دو تسمے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 310]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں خیبر گئے، اللہ نے فتح عنایت فرمائی، ہمیں غنیمت میں سونا یا چاندی نہ ملا، ہمیں غنیمت میں سامان غلہ اور کپڑے حاصل ہوئے۔ پھر ایک وادی کی طرف چل پڑے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک غلام تھا جو جذام قبیلہ کے ایک آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہبہ کیا تھا، جو بنو ضبیب سے تھا، جسے رفاعہ بن زید کہتے تھے۔ جب ہم نے وادی میں پڑاؤ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا غلام (مدعم نامی) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پالان کھولنے کے لیے اٹھا، اس کو ایک تیر مارا گیا جو اس کی موت کا باعث بنا۔ تو ہم نے کہا: اسے شہادت مبارک ہو، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہرگز نہیں، اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں محمد کی جان ہے! وہ شملہ جو اس نے خیبر کے دن مالِ غنیمت کی تقسیم سے پہلے اٹھائی تھی، اس پر آگ بن کر بھڑک رہی ہے۔ یہ سن کر لوگ خوفزدہ ہو گئے، ایک آدمی ایک تسمہ یا دو تسمے لے کر آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے یہ خیبر کے دن ملے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آگ کا ایک تسمہ یا آگ کے دو تسمے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 310]
ترقیم فوادعبدالباقی: 115
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في المغازی، باب: غزوة خيبر برقم (3993) وفي الايمان والنذور، باب: هل يدخل في الايمان والنذور الأرض والغنم والزروع والا متعة برقم (6329) وابوداؤد في ((سننه)) في الجهاد، باب: في تعظيم الغلول برقم (2711) انظر ((تحفة الاشراف)) برقم (12916)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں