🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

8. باب أول الإيمان قول لا إله إلا الله
باب: ایمان کا بنیادی اور پہلا جزو لا الٰہ الا اللہ کہنا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16
16 صحيح حديث المُسَيَّبِ بْنِ حَزْنٍ قَالَ: لَمّا حَضَرَتْ أَبا طَالِبٍ الْوَفاةُ جاءَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَ عِنْدَهُ أَبا جَهْلِ بْنَ هِشامٍ وَعَبْدَ اللهِ بْنَ أَبي أُمَيَّةَ بْنِ المُغِيرَة، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأبي طالِبٍ يا عَمِّ قُلْ لا إِلهَ إِلاّ اللهَ كَلِمَةَ أَشْهَدُ لَكَ بِها عِنْدَ اللهِ، فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ وَعَبْدُ اللهِ بْنِ أَبي أُمَيَّةَ يا أَبا طَالِبٍ أَتَرْغَبُ عَنْ مِلَّةِ عَبْدِ المُطَّلِب فَلَمْ يَزَل رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْرِضُها عَلَيْهِ، وَيَعُودَانِ بِتِلْكَ المَقالَةِ حَتّى قَالَ أَبو طَالِبٍ، آخِرَ ما كَلَّمَهُمْ، هُوَ عَلى مِلَّة عَبْدِ المُطَّلِبِ، وَأَبى أَنْ يَقُولَ لا إِلهَ إِلاّ الله، فَقالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمّا وَاللهِ لأَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ ما لَمْ أُنْهَ عَنْكَ فَأَنْزَلَ اللهُ تَعالى فِيهِ (مَا كانَ لِلنَّبِي) الآية
سیدنا مسیب بن حزن رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب ابوطالب کی وفات کا وقت قریب آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے، دیکھا تو ان کے پاس اس وقت ابوجہل بن ہشام اور عبداللہ بن ابی امیہ بن مغیرہ موجود تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوطالب سے فرمایا: ”چچا! آپ ایک کلمہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ کہہ دیجیے تاکہ میں اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کلمہ کی وجہ سے آپ کے حق میں گواہی دے سکوں۔“ اس پر ابوجہل اور عبداللہ بن ابی امیہ نے کہا: ابوطالب! کیا تم اپنے باپ عبدالمطلب کے دین سے پھر جاؤ گے؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم برابر کلمہ اسلام ان پر پیش کرتے رہے، ابوجہل اور ابن ابی امیہ بھی اپنی بات دہراتے رہے، آخر ابوطالب کی آخری بات یہ تھی کہ وہ عبدالمطلب کے دین پر ہیں، انہوں نے «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ کہنے سے انکار کر دیا۔ پھر بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں آپ کے لیے استغفار کرتا رہوں گا تاآنکہ مجھے منع نہ کر دیا جائے۔“ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿نبی کو اور ایمان داروں کو یہ لائق ہی نہیں کہ مشرکوں کے لیے استغفار کریں گو وہ قرابت دار ہی کیوں نہ ہوں اس کے بعد کہ ان پر یہ ظاہر ہو چکا ہے کہ وہ دوزخی ہیں﴾ [سورة التوبة: 113] ۔ [اللؤلؤ والمرجان/کِتَابُ الْاِیْمَانِ/حدیث: 16]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 23 كتاب الجنائز: 81 باب إذا قال المشرك عند الموت لا إله إلاّ الله»
وضاحت: راوي حدیث: سیّدنا مسیب بن حزن کی کنیت ابو سعید تھی۔ آپ نے اپنے والد حزن کے ہمراہ ہجرت کی۔ مسیب بیعت رضوان میں شریک ہوئے۔ صحیحین میں ان کی ایک حدیث ہے جو طارق بن عبدالرحمن کے واسطے سے بیان ہوئی ہے۔ شام کی فتوحات میں شریک رہے۔ مشہور تابعی سعید بن مسیب کے باپ ہیں۔

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں