🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

7. باب الأمر بقتال الناس حتى يقولوا لا إِله إِلا الله محمد رسول الله
جو لوگ لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ نہیں کہتے ان سے جنگ کرنے کا حکم ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13
13 صحيح حديث أَبي بَكْر وَعُمَر قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: لَمّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكانَ أَبُو بَكْرٍ رضي الله عنه، وَكَفَرَ مَنْ كَفَرَ مِنَ الْعَرَب، فَقالَ عُمَرُ رضي الله عنه: كَيْفَ تُقاتِلُ النَّاسَ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أُمِرْتُ أَنْ أُقاتِلَ النَّاسَ حَتّى يَقُولوا لا إِلهَ إِلاَّ اللهُ، فَمَنْ قالَها فَقَدْ عَصَمَ مِنِّي مَالَهُ وَنَفْسَهُ إِلاَّ بِحَقِّهِ، وَحِسابُهُ عَلى اللهِ فَقالَ أَبُو بَكْرٍ: وَاللهِ لأُقاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلاةِ وَالزَّكاةِ، فَإِنَّ الزَّكاةَ حَقُّ الْمالِ، وَاللهِ لَوْ مَنَعُوني عَناقًا كَانوا يُؤَدُّونَها إِلى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقاتَلْتُهُمْ عَلى مَنْعِها قالَ عُمَر رضي الله عنه: فَواللهِ ما هُوَ إِلاَّ أَنْ قَدْ شَرَحَ اللهُ صَدْرَ أَبي بَكْرٍ رضي الله عنه فَعَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو عرب کے کچھ قبائل کافر ہو گئے (اور کچھ نے زکاۃ سے انکار کر دیا اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے لڑنا چاہا) تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کی موجودگی میں کیونکر جنگ کر سکتے ہیں کہ ”مجھے حکم ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک جنگ کروں جب تک کہ وہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ کی شہادت نہ دے دیں اور جو شخص اس کی شہادت دے دے تو میری طرف سے اس کا مال و جان محفوظ ہو جائے گا سوائے اسی کے حق کے (یعنی قصاص وغیرہ کی صورتوں کے) اور اس کا حساب اللہ کے ذمہ ہو گا“؟ اس پر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ قسم اللہ کی! میں ہر اس شخص سے جنگ کروں گا جو زکاۃ اور نماز میں تفریق کرے گا (یعنی نماز تو پڑھے مگر زکاۃ کے لیے انکار کر دے) کیونکہ زکاۃ مال کا حق ہے۔ خدا کی قسم! اگر انہوں نے زکاۃ میں چار مہینے کے بچے کے دینے سے بھی انکار کیا جسے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیتے تھے تو میں ان سے لڑوں گا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ بخدا! یہ بات اس کا نتیجہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیا تھا اور بعد میں میں بھی اس نتیجہ پر پہنچا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ ہی حق پر تھے۔ [اللؤلؤ والمرجان/کِتَابُ الْاِیْمَانِ/حدیث: 13]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 24 كتاب الزكاة: 1 باب وجوب الزكاة»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14
14 صحيح حديث أَبي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أُمِرْتُ أَنْ أُقاتِلَ النَّاسَ حَتّى يَقُولُوا لا إِلهَ إِلاّ اللهُ، فَمَنْ قَالَ لا إِلهَ إِلاّ اللهُ فَقَدْ عَصَمَ مِنّي نَفْسَهُ وَمالَهُ إِلاَّ بِحَقِّهِ، وَحِسابُهُ عَلى اللهِ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک جنگ کرتا رہوں یہاں تک کہ وہ اس کا اقرار کر لیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، پس جس نے اقرار کر لیا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں تو اس کی جان اور مال ہم سے محفوظ ہے سوائے اس حق کے جس کی بنا پر قانوناً اس کی جان و مال زد میں آئے، اور اس کا حساب اللہ کے ذمہ ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/کِتَابُ الْاِیْمَانِ/حدیث: 14]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 56 كتاب الجهاد: 102 باب دعاء النبي صلی اللہ علیہ وسلم إلى الإسلام والنبوة»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15
15 صحيح حديث ابْنُ عُمَر أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أُمِرْتُ أَنْ أُقاتِلَ النَّاسَ حَتّى يَشْهَدوا أَنْ لا إِلهَ إِلاّ اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّداً رَسُولُ اللهِ، وَيُقيمُوا الصَّلاةَ وَيُؤْتُوا الزَّكاةَ، فَإِذا فَعَلُوا ذَلِكَ عَصَمُوا مِنّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوالَهُمْ إِلاّ بِحَقِّ الإسْلامِ، وَحِسابُهُمْ عَلى اللهِ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے (اللہ کی طرف سے) حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے جنگ کروں اس وقت تک کہ وہ اس بات کا اقرار کر لیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے رسول ہیں اور نماز ادا کرنے لگیں اور زکوٰۃ دیں۔ جس وقت وہ یہ کرنے لگیں گے تو مجھ سے اپنے جان و مال کو محفوظ کر لیں گے سوائے اسلام کے حق کے (رہا ان کے دل کا حال تو) ان کا حساب اللہ کے ذمے ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/کِتَابُ الْاِیْمَانِ/حدیث: 15]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 2 كتاب الإيمان: 17 باب فإن تابوا وأقاموا الصلاة وآتوا الزكاة فخلوا سبيلهم»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں