اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. باب بيان كون الإيمان بالله تعالى أفضل الأعمال
باب: اللہ پر ایمان لانا سب کاموں سے بڑھ کر ہے
حدیث نمبر: 50
50 صحيح حديث أَبي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ: أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ فَقَالَ: إِيمانٌ بِاللهِ وَرَسُولِهِ قِيلَ: ثُمَّ ماذا قَالَ: الْجِهادُ في سَبيلِ اللهِ قِيلَ: ثُمَّ ماذا قَالَ: حَجٌّ مَبْرورٌ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ کون سا عمل سب سے افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا۔“ کہا گیا: اس کے بعد کون سا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔“ کہا گیا: پھر کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حج مبرور۔“ [اللؤلؤ والمرجان/کِتَابُ الْاِیْمَانِ/حدیث: 50]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 2 كتاب الإيمان: 18 باب من قال إن الإيمان هو العمل»
وضاحت: حج مبرور سے خالص حج مراد ہے کہ جس میں ریا اور نمود نمائش کا شائبہ تک نہ ہو۔ اس کی نشانی یہ ہے کہ حج کے بعد آدمی گناہوں سے توبہ کرے اور پھر گناہوں میں مبتلا نہ ہو۔ (راز)
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 51
51 صحيح حديث أَبي ذَرٍّ رضي الله عنه، قَالَ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ قَالَ: إِيمانٌ بِاللهِ وَجِهادٌ في سَبيلِهِ قُلْتُ: فَأَيُّ الرِّقابِ أَفْضَلُ قَالَ: أَغْلاها ثَمَنًا وَأَنْفَسُها عِنْدَ أَهْلِهَا قُلْتُ: فَإِنْ لَمْ أَفْعَلْ قَالَ: تُعِينُ صَانِعًا أَوْ تَصْنَعُ َلأخْرَقَ قَالَ: فَإِنْ لَمْ أَفْعَلْ قَالَ: تَدَعُ النَّاسَ مِنَ الشَّرِّ فَإِنَّها صَدَقَةٌ تَصَدَّقُ بِها عَلى نَفْسِكَ
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کون سا عمل افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ پر ایمان لانا اور اس کی راہ میں جہاد کرنا۔“ میں نے پوچھا کہ کس طرح کا غلام آزاد کرنا افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو سب سے زیادہ قیمتی ہو اور مالک کی نظر میں جو بہت زیادہ پسندیدہ ہو۔“ میں نے عرض کیا کہ اگر مجھ سے یہ نہ ہو سکا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر کسی مسلمان کاری گر کی مدد کر یا کسی بے ہنر کی۔“ انہوں نے کہا کہ میں یہ بھی نہ کر سکا؟ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ کر دے کہ یہ بھی ایک صدقہ ہے جسے تم خود اپنے اوپر کرو گے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/کِتَابُ الْاِیْمَانِ/حدیث: 51]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 49 كتاب العتق: 2 باب أي الرقاب أفضل»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 52
52 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْعَمَلِ أَحَبُّ إِلى اللهِ قَالَ: الصَّلاةُ عَلى وَقْتِها قَالَ: ثُمَّ أَيّ قَالَ: ثُمَّ بِرُّ الْوالِدَيْنِ قَالَ: ثُمَّ أَيّ قَالَ: الْجِهادُ في سَبيلِ اللهِ قَالَ حَدَّثَنِي بِهِنَّ، وَلَوِ اسْتَزَدْتُهُ لَزَادَنِي
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کون سا عمل زیادہ محبوب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے وقت پر نماز پڑھنا۔“ پھر پوچھا: اس کے بعد؟ فرمایا: ”والدین کے ساتھ نیک معاملہ رکھنا۔“ پوچھا: اس کے بعد؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔“ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ تفصیل بتائی اور اگر میں اور سوالات کرتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور زیادہ بھی بتاتے (لیکن میں نے بطور ادب کے خاموشی اختیار کی)۔ [اللؤلؤ والمرجان/کِتَابُ الْاِیْمَانِ/حدیث: 52]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 9 كتاب مواقيت الصلاة: 5 باب فضل الصلاة لوقتها»
الحكم على الحديث:
«صحیح»