🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

93. باب مباشرة الحائض فوق الإِزار
باب: تہبند کے اوپر حائضہ عورت سے میل ملاپ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 168
168 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَتْ إِحْدَانَا إِذَا كَانَتْ حَائِضًا، فَأَرادَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُبَاشِرَهَا، أَمَرَهَا أَنْ تَتَّزِرَ فِي فَوْرِ حَيْضَتِهَا، ثُمَّ يُبَاشِرُهَا قَالَتْ: وَأَيُّكُمْ يَمْلِك إِرْبَهُ كَمَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْلِكُ إِرْبَهُ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ہم ازواج میں سے جب کوئی حائضہ ہوتی، اس حالت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر مباشرت کا ارادہ کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ازار (زیر جامہ) باندھنے کا حکم دے دیتے باوجود حیض کی زیادتی کے، پھر بدن سے بدن ملاتے، (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا) نے کہا: تم میں ایسا کون ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح اپنی شہوت پر قابو رکھتا ہو؟ (یعنی جسے اپنی شہوت پر قابو نہ ہو اسے مباشرت سے بھی بچنا چاہیے)۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحيض/حدیث: 168]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 6 كتاب الحيض: 5 باب مباشرة الحائض»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 169
169 صحيح حديث مَيْمُونَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُبَاشِرَ امْرَأَةً مِنْ نِسَائِهِ، أَمَرَهَا فَاتَّزَرَتْ وَهِيَ حَائِضٌ
ام المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں میں سے کسی سے مباشرت کرنا چاہتے اور وہ حائضہ ہوتی تو آپ کے حکم سے وہ پہلے ازار باندھ لیتیں۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحيض/حدیث: 169]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 6 كتاب الحيض: 5 باب مباشرة الحائض»
وضاحت: ان احادیث میں حیض کی حالت میں مباشرت سے عورت کے ساتھ لیٹنا بیٹھنا مراد ہے۔ منکرین حدیث کا یہاں جماع مراد لے کر ان احادیث کو قرآن کا معارض ٹھہرانا بالکل جھوٹ اور افترا ہے۔ (راز) راوي حدیث: ام المومنین سیدہ میمونہ بنت حارث سے عبداللہ بن مسعود ثقفی نے شادی کی اور پھر انہیں چھوڑ دیا۔ پھر ابورھم نے ان سے نکاح کیا۔ وہ فوت ہوگئے تو پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالقعدہ ۷ہجری کو عمرہ قضاء کرنے کے بعد ان سے نکاح کر لیا تھا۔ اور مکہ سے دس میل دور سرف مقام پر رخصتی ہوئی تھی۔ کل ۱۳احادیث کی راویہ ہیں جن میں سے ۷ متفق علیہ ہیں۔ ۶۱ہجری کو مکہ میں وفات پائی اور سیّدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حکم سے کندھوں پر سرف مقام پر لایا گیا۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں