اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
95. باب جواز غسل الحائض رأس روجها وترجيله
باب: حائضہ عورت اپنے خاوند کا سر دھو سکتی ہے اور اس کے سر میں کنگھی کر سکتی ہے
حدیث نمبر: 172
172 صحيح حديث عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: وَإِنْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُدْخِلُ عَلَىَّ رَأْسَهُ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ فأُرَجِّلُهُ، وَكَانَ لاَ يَدْخُلُ الْبيْتَ إِلاَّ لِحَاجَةٍ إِذَا كَانَ مُعْتَكِفًا
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد سے (اعتکاف کی حالت میں) سر مبارک میری طرف حجرہ کے اندر کر دیتے اور میں اس میں کنگھا کر دیتی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب معتکف ہوتے تو بلا حاجت گھر میں تشریف نہیں لاتے تھے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحيض/حدیث: 172]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 33 كتاب الاعتكاف: 3 باب لا يدخل البيت إلا لحاجة»
حدیث نمبر: 173
173 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَاشِرُنِي وَأَنَا حَائِضٌ، وَكَانَ يُخْرِجُ رَأْسَهُ مِنَ الْمَسْجِدِ وَهُوَ مُعْتَكِفٌ فَأَغْسِلُهُ وَأَنَا حَائِضٌ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں حائضہ ہوتی پھر بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اپنے بدن سے لگا لیتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم معتکف ہوتے اور میں حائضہ ہوتی اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم سر (مبارک مسجد) سے باہر کر دیتے اور میں اسے دھوتی تھی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحيض/حدیث: 173]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 33 كتاب الاعتكاف: 4 باب غسل المعتكف»
حدیث نمبر: 174
174 صحيح حديث عَائِشَةَ، حَدَّثَتْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَّكِى فِي حَجْرِي وَأَنَا حَائِضٌ ثُمَّ يَقْرأُ الْقُرْآنَ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میری گود میں سر رکھ کر قرآن مجید پڑھتے حالانکہ میں اس وقت حیض والی ہوتی تھی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحيض/حدیث: 174]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 6 كتاب الحيض: 3 باب قراءة الرجل في حجر امرأته وهي حائض»