صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. بَابُ مَنْ قَالَ لِيُؤَذِّنْ فِي السَّفَرِ مُؤَذِّنٌ وَاحِدٌ:
باب: جو یہ کہے کہ سفر میں ایک ہی شخص اذان دے۔
حدیث نمبر: 628
حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَفَرٍ مِنْ قَوْمِي، فَأَقَمْنَا عِنْدَهُ عِشْرِينَ لَيْلَةً وَكَانَ رَحِيمًا رَفِيقًا، فَلَمَّا رَأَى شَوْقَنَا إِلَى أَهَالِينَا، قَالَ:" ارْجِعُوا فَكُونُوا فِيهِمْ وَعَلِّمُوهُمْ وَصَلُّوا، فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَلْيُؤَذِّنْ لَكُمْ أَحَدُكُمْ وَلْيَؤُمَّكُمْ أَكْبَرُكُمْ".
ہم سے معلی بن سعد اسد بصریٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب بن خالد نے ابوایوب سے بیان کیا، انہوں نے ابوقلابہ سے، انہوں نے مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے، کہا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنی قوم (بنی لیث) کے چند آدمیوں کے ساتھ حاضر ہوا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت شریف میں بیس راتوں تک قیام کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بڑے رحم دل اور ملنسار تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے اپنے گھر پہنچنے کا شوق محسوس کر لیا تو فرمایا کہ اب تم جا سکتے ہو۔ وہاں جا کر اپنی قوم کو دین سکھاؤ اور (سفر میں) نماز پڑھتے رہنا۔ جب نماز کا وقت آ جائے تو تم میں سے ایک شخص اذان دے اور جو تم میں سب سے بڑا ہو وہ امامت کرائے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَذَانِ/حدیث: 628]
حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں اپنی قوم کے چند آدمیوں کے ہمراہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور ہم نے آپ کے ہاں بیس راتیں قیام کیا۔ آپ انتہائی مہربان اور نرم دل تھے۔ جب آپ نے محسوس فرمایا کہ ہمارا اشتیاق اہل خانہ کی طرف ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے گھروں کو لوٹ جاؤ۔ اپنے اہل خانہ کے ساتھ رہو۔ انہیں دین کی تعلیم دو اور نماز پڑھا کرو۔ اذان کا وقت آئے تو تم میں سے کوئی اذان دے، پھر تم میں سے جو بڑا ہو وہ امامت کے فرائض سر انجام دے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَذَانِ/حدیث: 628]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة