اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
127. باب التسميع والتحميد والتأمين
باب: سمع اللہ لمن حمدہ، ربنا لک الحمد اور آمین کہنے کا حکم
حدیث نمبر: 229
229 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا قَالَ الإِمَامُ سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولُوا: اللهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ؛ فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ قَوْلُهُ قَوْلَ الْمَلاَئِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب امام «سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے اس کی بات سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ کہے تو تم «اللّٰهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» ”اے اللہ! اے ہمارے رب! اور تیرے ہی لیے تمام تعریف ہے“ کہو کیونکہ جس کا یہ کہنا فرشتوں کے کہنے کے ساتھ ہو گا اس کے پچھلے تمام گناہ بخش دیے جائیں گے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 229]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 125 باب فضل اللهم ربنا ولك الحمد»
حدیث نمبر: 230
230 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا قَالَ أَحَدُكُمْ آمِينَ، وَقَالَتِ الْمَلاَئِكَةُ فِي السَّمَاءِ آمِينَ، فَوَافَقَتْ إِحْداهُمَا الأُخْرَى؛ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی تم میں سے «آمِيْن» ”آمین“ کہے اور فرشتوں نے بھی اسی وقت آسمان پر «آمِيْن» ”آمین“ کہی، اس طرح ایک کی «آمِيْن» ”آمین“ دوسرے کی «آمِيْن» ”آمین“ کے ساتھ مل گئی تو اس کے پچھلے تمام گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 230]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 112 باب فضل التأمين»
حدیث نمبر: 231
231 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا قَالَ الإِمَامُ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلاَ الضَّالِّينَ فَقُولُوا: آمِينَ؛ فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ قَوْلُهُ قَوْلَ الْمَلاَئِكَةِ؛ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب امام ﴿غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ﴾ [سورة الفاتحة: 7] کہے تو تم بھی «آمِيْن» ”آمین“ کہو کیونکہ جس نے فرشتوں کے ساتھ «آمِيْن» ”آمین“ کہی اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 231]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 113 باب جهر المأموم بالتأمين»
وضاحت: لفظ آمین کے معنی یہ ہیں کہ ”اے اللہ! میں نے جو دعائیں تجھ سے کی ہیں ان کو قبول فرمائیے۔“ یہ لفظ یہود ونصاریٰ میں بھی مستعمل رہا اور اسلام میں بھی اسے استعمال کیا گیا۔ جہری نمازوں میں اس کا زور سے کہنا کوئی امر قبیح نہ تھا مگر افسوس کہ بعض علماء سوء نے رائی کا پہاڑ بنا دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں میں سر پھٹول ہوئی اور عرصہ کے لیے دلوں میں کاوش پیدا ہوگئی۔ (راز)