🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
127. باب التسميع والتحميد والتأمين
باب: سمع اللہ لمن حمدہ، ربنا لک الحمد اور آمین کہنے کا حکم
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 231
231 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا قَالَ الإِمَامُ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلاَ الضَّالِّينَ فَقُولُوا: آمِينَ؛ فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ قَوْلُهُ قَوْلَ الْمَلاَئِكَةِ؛ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب امام ﴿غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ﴾ [سورة الفاتحة: 7] کہے تو تم بھی «آمِيْن» ”آمین“ کہو کیونکہ جس نے فرشتوں کے ساتھ «آمِيْن» ”آمین“ کہی اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 231]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 113 باب جهر المأموم بالتأمين»
وضاحت: لفظ آمین کے معنی یہ ہیں کہ ”اے اللہ! میں نے جو دعائیں تجھ سے کی ہیں ان کو قبول فرمائیے۔“ یہ لفظ یہود ونصاریٰ میں بھی مستعمل رہا اور اسلام میں بھی اسے استعمال کیا گیا۔ جہری نمازوں میں اس کا زور سے کہنا کوئی امر قبیح نہ تھا مگر افسوس کہ بعض علماء سوء نے رائی کا پہاڑ بنا دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں میں سر پھٹول ہوئی اور عرصہ کے لیے دلوں میں کاوش پیدا ہوگئی۔ (راز)

الحكم على الحديث:
«صحیح»


Al-Lulu wal-Marjan Hadith 231 in Urdu