اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
142. باب القراءة في العشاء
باب: عشاء کی نماز میں قراء ت کا بیان
حدیث نمبر: 265
265 صحيح حديث الْبَرَاءِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ في سَفَرٍ فَقَرَأَ فِي الْعِشَاءِ فِي إِحْدَى الرَّكْعَتَيْنِ بِالتِّينِ وَالزَّيْتُون
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ سفر میں تھے کہ عشاء کی دو پہلی رکعات میں سے کسی ایک رکعت میں آپ نے ﴿وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ﴾ [سورة التين: 1] پڑھی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 265]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 100 باب الجهر في العشاء»
حدیث نمبر: 266
266 صحيح حديث جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ رضي الله عنه كَانَ يُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ يَأْتِي قَوْمَهُ فَيُصَلِّي بِهِمْ الصَّلاَةَ، فَقَرَأَ بِهِمُ الْبَقَرَةَ قَالَ: فَتَجَوَّزَ رَجُلٌ فَصَلَّى صَلاَةً خَفِيفَةً، فَبَلَغَ ذَلِكَ مُعَاذًا، فَقَالَ: إِنَّهُ مُنَافِقٌ فَبَلَغَ ذلِكَ الرَّجُلَ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا قَوْمٌ نَعْمَلُ بِأَيْدِينَا، وَنَسْقِي بِنَوَاضِحِنَا وَإِنَّ مُعَاذًا صَلَّى بِنَا الْبَارِحَةَ، [ص:97] فَقَرَأَ الْبَقَرَةَ، فَتَجَوَّزْتُ، فَزَعَمْ أَنِّي مُنَافِقٌ فَقَالَ النَبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا مُعَاذُ أَفَتَّانٌ أَنْتَ ثلاثًا اقْرَأْ (وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا) وَ (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى) وَنَحْوَهَا
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے، پھر اپنی قوم میں آتے اور انہیں نماز پڑھاتے۔ انہوں نے (ایک مرتبہ) نماز میں سورہ بقرہ پڑھی، اس پر ایک صاحب جماعت سے الگ ہو گئے اور ہلکی نماز پڑھی۔ جب اس کے متعلق سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا تو کہا: ”وہ منافق ہے“۔ ان کی یہ بات جب ان صاحب کو معلوم ہوئی تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: ”یا رسول اللہ! ہم لوگ محنت کا کام کرتے ہیں اور اپنی اونٹنیوں کو خود پانی پلاتے ہیں، معاذ (رضی اللہ عنہ) نے کل رات ہمیں نماز پڑھائی اور سورہ بقرہ پڑھنی شروع کر دی، اس لیے میں نماز توڑ کر الگ ہو گیا، اس پر وہ کہتے ہیں کہ میں منافق ہوں“۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے معاذ! کیا تم لوگوں کو فتنے میں مبتلا کرتے ہو؟“ تین مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا: ”(جب امام ہو تو) سورہ ﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ﴾ [سورة العلق: 1] ، ﴿وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا﴾ [سورة الشمس: 1] اور ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ [سورة الأعلى: 1] جیسی سورتیں پڑھا کرو۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 266]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 78 كتاب الأدب: 74 باب من لم ير إكفار من قال ذلك متأولاً أو جاهلا»