اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
143. باب أمر الأئمة بتخفيف الصلاة في تمام
باب: امام کے لیے نماز کو مکمل لیکن ہلکا پڑھنے کا حکم
حدیث نمبر: 267
267 صحيح حديث أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي وَاللهِ لأَتأَخَّرُ عَنْ صَلاَةِ الْغَدَاةِ مِنْ أَجْلِ فُلاَنٍ مِمَّا يُطِيلُ بِنَا فِيهَا قَالَ: فَمَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطُّ أَشَدَّ غَضَبًا فِي مَوْعِظَةٍ مِنْهُ يَوْمَئِذٍ، ثُمَّ قَالَ: يأَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ مِنْكُمْ مُنَفِّرِينَ؛ فَأَيُّكُمْ مَا صَلَّى بِالنَّاسِ فَلْيُوجِزْ، فَإِنَّ فِيهِمُ الْكَبِيرَ وَالضَّعِيفَ وَذَا الْحَاجَةِ
سیدنا ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ کی قسم، میں صبح کی جماعت میں فلاں (معاذ بن جبل یا ابی بن کعب) کی وجہ سے شرکت نہیں کر پاتا کیونکہ وہ ہمارے ساتھ اس نماز کو بہت لمبی کر دیتے ہیں۔ ابو مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وعظ و نصیحت کے وقت اس سے زیادہ غضب ناک ہوتے کبھی نہیں دیکھا جیسا کہ آپ اس دن تھے، پھر آپ نے فرمایا: ”اے لوگو! تم میں سے بعض (نمازیوں کو) نفرت دلانے والے ہیں، پس تم میں سے جو شخص بھی لوگوں کو نماز پڑھائے اسے اختصار کرنا چاہیے کیونکہ (جماعت میں) بوڑھے، بچے اور ضرورت مند سب ہی ہوتے ہیں۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 267]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 93 كتاب الأحكام: 13 باب هل يقضي الحاكم أو يفتي وهو غضبان»
حدیث نمبر: 268
268 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ لِلنَّاسِ فَلْيُخَفِّفْ، فَإِنَّ مِنْهُمُ الضَّعِيفَ وَالسَّقِيمَ وَالْكَبِيرَ؛ وَإِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ لِنَفْسِهِ فَلْيُطَوِّلْ مَا شَاءَ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی تم میں سے لوگوں کو نماز پڑھائے تو تخفیف کرے کیونکہ جماعت میں ضعیف اور بیمار اور بوڑھے (سب ہی) ہوتے ہیں، لیکن اکیلا پڑھے تو جس قدر جی چاہے طول دے سکتا ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 268]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 62 باب إذا صلى لنفسه فليطول ما شاء»
حدیث نمبر: 269
269 صحيح حديث أَنَسٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوجِزُ الصَّلاَةَ وَيُكْمِلُهَا
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کو مختصر اور پوری پڑھتے تھے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 269]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 64 باب الإيجاز في الصلاة وإكمالها»
حدیث نمبر: 270
270 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: مَا صَلَّيْتُ وَرَاءَ إِمَامٍ قَطُّ أَخَفَّ صَلاَةً وَلاَ أَتَمَّ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؛ وَإِنْ كَانَ لَيَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ فيُخَفِّفُ مَخَافَةَ أَنْ تُفْتَنَ أُمُّهُ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ ہلکی لیکن کامل نماز میں نے کسی امام کے پیچھے کبھی نہیں پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حال تھا کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بچے کے رونے کی آواز سن لیتے تو اس خیال سے کہ اس کی ماں کہیں پریشانی میں نہ مبتلا ہو جائے، نماز مختصر کر دیتے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 270]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 65 باب من أخف الصلاة عند بكاء الصبي»
حدیث نمبر: 271
271 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنِّي لأَدْخُلُ فِي الصَّلاةِ وَأَنَا أُرِيدُ إِطَالَتَهَا فَأَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ فَأَتَجَوَّزُ فِي صَلاَتِي مِمَّا أَعْلَمُ مِنْ شِدَّةِ وَجْدِ أُمِّهِ مِنْ بُكَائِهِ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نماز شروع کر دیتا ہوں، ارادہ یہ ہوتا ہے کہ نماز طویل کروں، لیکن بچے کے رونے کی آواز سن کر مختصر کر دیتا ہوں کیونکہ مجھے معلوم ہے ماں کے دل پر بچے کے رونے سے کیسی چوٹ پڑتی ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 271]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 65 باب من أخف الصلاة عند بكاء الصبي»