🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

151. باب دنو المصلي من السترة
باب: نمازی کے سترہ کے قریب کھڑے ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 285
285 صحيح حديث سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: كَانَ بَيْنَ مُصَلَّي رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ الْجِدَارِ مَمَرُّ الشَّاةِ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سجدہ کرنے کی جگہ اور دیوار کے درمیان ایک بکری کے گزر سکنے کا فاصلہ رہتا تھا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 285]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 8 كتاب الصلاة: 91 باب قدركم ينبغي أن يكون بين المصلِّي والسترة»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 286
286 صحيح حديث سَلَمَةَ، قَالَ: كَانَ جِدَارُ الْمَسْجِدِ عِنْدَ الْمِنْبَرِ مَا كَادَتِ الشَّاةُ تَجُوزُهَا
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مسجد کی دیوار اور منبر کے درمیان بکری کے گزر سکنے کے فاصلے کے برابر جگہ تھی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 286]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 8 كتاب الصلاة: 91 باب قدركم ينبغي أن يكون بين المصلِّي والسترة»
وضاحت: راوي حدیث: سیّدنا سلمہ بن عمرو بن الاکوع رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو عامر اسلمی ہے پہلے پہل حدیبیہ میں شامل ہوئے۔ بڑے بہادر تھے اور تیز دوڑتے تھے حتیٰ کہ گھوڑے سے بھی سبقت لے جاتے تھے۔ مدینے میں فتویٰ دیا کرتے تھے۔ ۷۴ ہجری میں ۸۰ سال کی عمر میں مدینہ منورہ میں فوت ہوئے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 287
287 صحيح حديث سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ قَالَ يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ: كُنْتُ آتِي مَعَ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ فَيُصَلِّي عِنْدَ الأُسْطُوَانَةِ الَّتِي عِنْدَ الْمُصْحَفِ، فَقُلْتُ يَا أَبَا مُسْلِمٍ أَرَاكَ تَتَحَرَّى الصَّلاَةَ عِنْدَ هذِهِ الأُسْطُوَانَةِ قَالَ: فَإِنِّي رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَحَرَّى الصَّلاَةَ عِنْدهَا
سیدنا یزید بن ابی عبید رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ میں سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کے ساتھ (مسجد نبوی) میں حاضر ہوا کرتا تھا، سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہ ہمیشہ اس ستون کو سامنے کر کے نماز پڑھتے جہاں قرآن شریف رکھا رہتا تھا، میں نے ان سے کہا کہ اے ابو مسلم! میں دیکھتا ہوں کہ آپ ہمیشہ اسی ستون کو سامنے کر کے نماز پڑھتے ہیں، انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ خاص طور سے اسی ستون کو سامنے کر کے نماز پڑھا کرتے تھے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 287]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 8 كتاب الصلاة: 95 باب الصلاة إلى الأسطوانة»
وضاحت: سیّدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے زمانے میں مسجد نبوی میں ایک ستون کے پاس قرآن شریف صندوق میں رکھا ہوتا تھا۔ اس کو ستون مصحف کہا کرتے تھے، یہاں اس کا ذکر ہے۔ (راز)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں