🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

152. باب الاعتراض بين يدي المصلي
باب: نماز کے سامنے لیٹے رہنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 288
288 صحيح حديث عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي وَهِيَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ عَلَى فِرَاشِ أَهْلِهِ اعْتِرَاضَ الْجَنَازَةِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر کے بچھونے پر نماز پڑھتے اور میں آپ کے اور قبلہ کے درمیان اس طرح لیٹی ہوتی جیسے (نماز کے لیے) جنازہ رکھا جاتا ہے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 288]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 8 كتاب الصلاة: 22 باب الصلاة على الفراش»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 289
289 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ النَبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَأَنَا رَاقِدَةٌ مُعْتَرِضَةٌ عَلَى فِرَاشِهِ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُوتِرَ أَيْقَظَنِي فَأَوْتَرْتُ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے رہتے اور میں (آپ کے سامنے) بچھونے پر آڑی سوتی ہوئی پڑی ہوتی، جب آپ وتر پڑھنا چاہتے تو مجھے بھی جگا دیتے اور میں بھی وتر پڑھ لیتی تھی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 289]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 8 كتاب الصلاة: 103 باب الصلاة خلف النائم»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 290
290 صحيح حديث عَائِشَةَ عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: ذُكِرَ عِنْدَهَا (عَائِشَةَ) مَا يَقْطَعُ الصَّلاَةَ، الْكَلْبُ وَالْحِمَارُ وَالْمَرْأَةُ فَقَالَتْ: شَبَّهْتُمُونَا بالْحُمُر وَالْكِلاَب وَاللهِ لَقَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَإِنِّي عَلَى السَرِيرِ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقبْلَةِ، مُضْطَجِعَةً، فَتَبْدو لِي الْحَاجَةُ فَأَكْرَهُ أَنْ أَجْلِسَ فأُوذِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْسَلُّ مِنْ عِنْد رِجْلَيْهِ
مسروق رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے ان چیزوں کا ذکر ہوا جو نماز کو توڑ دیتی ہیں (یعنی کتا، گدھا اور عورت)، اس پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ تم لوگوں نے ہمیں گدھوں اور کتوں کے برابر کر دیا، حالانکہ اللہ کی قسم! خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح نماز پڑھتے تھے کہ میں چارپائی پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور قبلہ کے بیچ میں لیٹی رہتی تھی، مجھے کوئی ضرورت پیش آتی اور چونکہ یہ بات مجھے پسند نہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے (جب کہ آپ نماز پڑھ رہے ہوں) بیٹھوں اور اس طرح آپ کو تکلیف ہو، اس لیے میں آپ کے پاؤں کی طرف سے خاموشی کے ساتھ نکل جاتی تھی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 290]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 8 كتاب الصلاة: 105 باب من قال لا يقطع الصلاة شيء»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 291
291 صحيح حديث عَائِشَةَ قَالَتْ: أَعَدَلْتُمُونَا بِالْكَلْبِ وَالْحِمَارِ لَقَدْ رَأَيْتُنِي مُضْطَجِعَةً عَلَى السَّرِيرِ فَيَجِيءُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيتَوَسَّطُ السَّرِيرَ، فَيُصَلِّي، فَأَكْرَهُ أَنْ أُسَنِّحَهُ فَأَنْسَلُّ مِنْ قِبَلِ رِجْلِي السَّرِيرِ حَتَّى أنْسَلَّ مِنْ لِحَافِي
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ تم لوگوں نے ہم عورتوں کو کتوں اور گدھوں کے برابر بنا دیا، حالانکہ میں چارپائی پر لیٹی ہوتی تھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لاتے اور چارپائی کے بیچ میں آ جاتے (یا چارپائی کو اپنے اور قبلہ کے بیچ میں کر لیتے) پھر نماز پڑھتے، مجھے آپ کے سامنے پڑے رہنا برا معلوم ہوتا، اس لیے میں پائینتی کی طرف سے کھسک کر لحاف سے باہر نکل جاتی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 291]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 8 كتاب الصلاة: 99 باب الصلاة إلى السرير»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 292
292 صحيح حديث عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ: كُنْتُ أَنَامُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرِجْلاَيَ فِي قِبْلَتِهِ، فَإِذَا سَجَدَ غَمَزَنِي فَقَبَضْتُ رِجْلَيَّ، فَإِذَا قَامَ بَسَطْتُهُمَا قَالَتْ: والْبُيُوتُ يَوْمَئِذٍ لَيْسَ فِيهَا مَصَابِيحُ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سو جایا کرتی تھی، میرے پاؤں آپ کے سامنے (پھیلے ہوئے) ہوتے، جب آپ سجدہ کرتے تو پاؤں کو ہلکے سے دبا دیتے اور میں انہیں سکیڑ لیتی، پھر جب قیام فرماتے تو میں انہیں پھیلا لیتی تھی، اس زمانہ میں گھروں کے اندر چراغ نہیں ہوتے تھے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 292]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 8 كتاب الصلاة: 104 باب التطوع خلف المرأة»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 293
293 صحيح حديث مَيْمُونَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَأَنَا حِذَاءَهُ، وَأَنَا حَائِضٌ، وَرُبَّمَا أَصَابَنِي ثَوْبُهُ إِذَا سَجَدَ
سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے اور میں حائضہ ہونے کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہوتی، اکثر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کپڑا مجھے چھو جاتا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 293]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 8 كتاب الصلاة: 19 باب إذا أصاب المصلي امرأته إذا سجد»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں