اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
154. باب المساجد ومواضع الصلاة
باب: مسجدوں اور نمازوں کی جگہوں کا بیان
حدیث نمبر: 298
298 صحيح حديث أَبِي ذَرٍّ رضي الله عنه، قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ أيُّ مَسْجِدٍ وُضِعَ فِي الأَرْضِ أَوَّلُ قَالَ: الْمَسْجِدُ الْحَرَامُ قَالَ: قُلْتُ ثُمَّ أيُّ قَالَ: الْمَسْجِدُ الأَقْصى قُلْتُ: كَمْ كَانَ بَيْنَهُمًا قَالَ: أَرْبَعُونَ سَنَةً، ثُمَّ أَيْنَمَا أَدْرَكَتْكَ الصَّلاَةُ بَعْدُ، فَصَلِّ، فَإِنَّ الْفَضْلَ فِيهِ
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! سب سے پہلے روئے زمین پر کون سی مسجد بنی ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”مسجد حرام۔“ انہوں نے بیان کیا کہ پھر میں نے عرض کیا اور اس کے بعد؟ فرمایا کہ ”مسجد اقصیٰ (بیت المقدس)۔“ میں نے عرض کیا ان دونوں کی تعمیر کے درمیان میں کتنا فاصلہ رہا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”چالیس سال۔“ پھر فرمایا: ”اب جہاں بھی تجھ کو نماز کا وقت ہو جائے وہاں نماز پڑھ لے، بڑی فضیلت نماز پڑھنا ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 298]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 60 كتاب الأنبياء: 10 باب حدثنا موسى بن إسماعيل»
حدیث نمبر: 299
299 صحيح حديث جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ مِنَ الأَنْبِيَاءِ قَبْلِي: نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ، وَجُعِلَتْ لِيَ الأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا، فَأَيُّمَا رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي أَدْرَكَتْهُ الصَّلاَةُ فَلْيُصَلِّ، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ، وَكَانَ النَبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبْعَثُ إِلَى قَوْمِهِ خَاصَّةً وَبُعِثْتُ إِلَى النَّاس كَافَّةً، وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے پانچ ایسی چیزیں عطا کی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے انبیاء کو نہیں دی گئی تھیں: پہلی یہ کہ ایک مہینے کی راہ سے میرا رعب ڈال کر میری مدد کی گئی، دوسری یہ کہ میرے لیے تمام زمین میں نماز پڑھنے اور پاکی حاصل کرنے کی اجازت ہے، اس لیے میری امت کے جس آدمی کی نماز کا وقت (جہاں بھی) آ جائے اسے (وہیں) نماز پڑھ لینی چاہیے، تیسری یہ کہ میرے لیے مالِ غنیمت حلال کیا گیا، چوتھی یہ کہ پہلے انبیاء خاص اپنی قوموں کی ہدایت کے لیے بھیجے جاتے تھے لیکن مجھے دنیا کے تمام انسانوں کی ہدایت کے لیے بھیجا گیا ہے، اور پانچویں یہ کہ مجھے شفاعت عطا کی گئی ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 299]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 8 كتاب الصلاة: 56 باب قول النبي صلی اللہ علیہ وسلم جعلت لي الأرض مسجدًا وطهورًا»
حدیث نمبر: 300
300 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: بُعِثْتُ بِجَوَامِعِ الْكَلِمِ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ، فَبَيْنَا أَنَا نَائِمٌ أُتِيتُ بِمَفَاتِيحِ خَزَائِنِ الأَرْضِ فَوُضِعَتْ فِي يَدِي قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: وَقَدْ ذَهَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنْتُمْ تَنْتَثِلُونَهَا
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے جامع کلام (جس کی عبارت مختصر اور فصیح و بلیغ ہو اور معنی بہت وسیع ہوں) دے کر بھیجا گیا ہے اور رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے، میں سویا ہوا تھا کہ زمین کے خزانوں کی کنجیاں میرے پاس لائی گئیں اور میرے ہاتھ پر رکھ دی گئیں“۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو (اپنے رب کے پاس) جا چکے اور (جن خزانوں کی وہ کنجیاں تھیں) انہیں اب تم نکال رہے ہو۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 300]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 56 كتاب الجهاد: 122 باب قول النبي صلی اللہ علیہ وسلم نصرت بالرعب مسيرة شهر»
وضاحت: اس خواب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بشارت دی گئی تھی کہ آپ کی امت کے ہاتھوں دنیا کی بڑی بڑی سلطنتیں فتح ہوں گی۔ اور ان کے خزانوں کے وہ مالک ہوں گے۔ چنانچہ بعد میں اس خواب کی مکمل تعبیر مسلمانوں نے دیکھی کہ دنیا کی دو سب سے بڑی سلطنتیں روم وایران مسلمانوں نے فتح کیں۔ سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بھی اسی طرف اشارہ ہے۔ (راز)