اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
154. باب المساجد ومواضع الصلاة
باب: مسجدوں اور نمازوں کی جگہوں کا بیان
حدیث نمبر: 299
299 صحيح حديث جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ مِنَ الأَنْبِيَاءِ قَبْلِي: نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ، وَجُعِلَتْ لِيَ الأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا، فَأَيُّمَا رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي أَدْرَكَتْهُ الصَّلاَةُ فَلْيُصَلِّ، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ، وَكَانَ النَبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبْعَثُ إِلَى قَوْمِهِ خَاصَّةً وَبُعِثْتُ إِلَى النَّاس كَافَّةً، وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے پانچ ایسی چیزیں عطا کی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے انبیاء کو نہیں دی گئی تھیں: پہلی یہ کہ ایک مہینے کی راہ سے میرا رعب ڈال کر میری مدد کی گئی، دوسری یہ کہ میرے لیے تمام زمین میں نماز پڑھنے اور پاکی حاصل کرنے کی اجازت ہے، اس لیے میری امت کے جس آدمی کی نماز کا وقت (جہاں بھی) آ جائے اسے (وہیں) نماز پڑھ لینی چاہیے، تیسری یہ کہ میرے لیے مالِ غنیمت حلال کیا گیا، چوتھی یہ کہ پہلے انبیاء خاص اپنی قوموں کی ہدایت کے لیے بھیجے جاتے تھے لیکن مجھے دنیا کے تمام انسانوں کی ہدایت کے لیے بھیجا گیا ہے، اور پانچویں یہ کہ مجھے شفاعت عطا کی گئی ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 299]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 8 كتاب الصلاة: 56 باب قول النبي صلی اللہ علیہ وسلم جعلت لي الأرض مسجدًا وطهورًا»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 299 in Urdu