🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

77. باب مَعْنَى قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى} وَهَلْ رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَبَّهُ لَيْلَةَ الإِسْرَاءِ:
باب: اس باب میں یہ بیان ہے کہ «وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى» سے کیا مراد ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حق تعالیٰ جل جلالہ کو معراج کی رات میں دیکھا تھا یا نہیں۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 177 ترقیم شاملہ: -- 442
وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ ، عَنِ ابْنِ أَشْوَعَ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ : فَأَيْنَ قَوْلُهُ ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّى {8} فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى {9} فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَا أَوْحَى {10} سورة النجم آية 8-10؟ قَالَتْ: " إِنَّمَا ذَاكَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ، كَانَ يَأْتِيهِ فِي صُورَةِ الرِّجَالِ، وَإِنَّهُ أَتَاهُ فِي هَذِهِ الْمَرَّةِ فِي صُورَتِهِ، الَّتِي هِيَ صُورَتُهُ، فَسَدَّ أُفُقَ السَّمَاءِ ".
(سعید بن عمرو) ابن اشوع نے عامر (شعبی) سے، انہوں نے مسروق سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے عرض کی: اللہ تعالیٰ کے اس قول کا کیا مطلب ہو گا: «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّىٰ * فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَىٰ * فَأَوْحَىٰ إِلَىٰ عَبْدِهِ مَا أَوْحَىٰ» پھر وہ قریب ہوا اور اتر آیا اور دو کمانوں کے برابر یا اس سے کم فاصلے پر تھا، پھر اس نے اس کے بندے کی طرف وحی کی جو وحی کی؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: وہ تو جبریل تھے، وہ ہمیشہ آپ کے پاس انسانوں کی شکل میں آتے تھے اور اس دفعہ وہ آپ کے پاس اپنی اصل شکل میں آئے اور انہوں نے آسمان کے افق کو بھر دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 442]
حضرت مسروق رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا کیا معنی ہے؟ ﴿فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَىٰ ۝ فَأَوْحَىٰ إِلَىٰ عَبْدِهِ مَا أَوْحَىٰ﴾ [سورة النجم: 9-10] تو وہ دو کمانوں کے فاصلے پر ہو گیا، بلکہ زیادہ قریب آ گیا، پھر اس نے وحی کی اس بندے کی طرف جو وحی کی۔ انہوں نے (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے) کہا: اس سے مراد تو بس جبریل علیہ السلام ہیں، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مردوں کی صورت (شکل) میں آتے تھے، اس مرتبہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنی اصلی صورت جو ان کی صورت ہے، میں آئے تو انہوں نے آسمان کو بھر دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 442]
ترقیم فوادعبدالباقی: 177
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في بدء الخلق، باب: اذا قال احدكم: آمين والملائكة في السماء فوافقت احداهما الاخرى غفر له ما تقدم من ذنبه برقم (3234) انظر ((التحفة)) برقم (17618)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں