🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

200. باب صلاة المسافرين وقصرها
باب: مسافروں کی نماز اور اس کے قصر کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 398
398 صحيح حديث عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ: فَرَضَ اللهُ الصَّلاَةَ حِينَ فَرَضَهَا رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ، فَأُقِرَّتْ صَلاَةُ السَّفَرِ، وَزِيدَ فِي صَلاَةِ الْحَضَرِ
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے ابتدا میں نماز دو دو رکعت فرض کی تھی، سفر میں بھی اور حالتِ اقامت میں بھی، پھر سفر کی نماز تو اپنی اصلی حالت پر باقی رکھی گئی اور حالتِ اقامت کی نمازوں میں زیادتی کر دی گئی۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 398]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 8 كتاب الصلاة: 1 كيف فرضت الصلوات في الإسراء»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 399
399 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُمَرَ، فَقَالَ: صَحِبْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ أَرَهُ يُسَبِّحُ فِي السَّفَرِ وَقَالَ اللهُ جَلَّ ذِكْرُهُ (لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ)
حفص بن عاصم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ہم سے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہا ہوں، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سفر میں کبھی سنتیں پڑھتے نہیں دیکھا اور اللہ جل ذکرہ کا ارشاد ہے: ﴿تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بہترین نمونہ ہے﴾ [سورة الأحزاب: 21] ۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 399]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 18 كتاب تقصير الصلاة: 11 باب من لم يتطوع في السفر دبر الصلاة وقبلها»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 400
400 صحيح حديث أَنَسٍ رضي الله عنه، قَالَ: صَلَّيْتُ الظُّهْرَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا، وَبِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے مدینہ میں چار رکعات نماز (ظہر) اور ذوالحلیفہ میں دو رکعت نماز (عصر) پڑھی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 400]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 18 كتاب تقصير الصلاة: 5 باب يقصر إذا خرج من موضعه»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 401
401 صحيح حديث أَنَسٍ، قَالَ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ، فَكَانَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ حَتَّى رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَة سَأَلَهُ يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحقَ قَالَ: أَقَمْتُمْ بِمَكَّةَ شَيْئًا قَالَ أَقَمْنَا بِهَا عَشْرًا
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مکہ کے ارادے سے مدینہ سے نکلے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم برابر دو دو رکعت پڑھتے رہے یہاں تک کہ ہم مدینہ واپس آئے، یحییٰ بن ابی اسحاق کہتے ہیں: میں نے پوچھا کہ کیا آپ کا مکہ میں کچھ دن قیام بھی رہا تھا؟ تو اس کا جواب سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے یہ دیا کہ دس دن تک ہم وہاں ٹھہرتے تھے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 401]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 18 كتاب تقصير الصلاة: 1 باب ما جاء في التقصير وكم يقيم حتى يقصر»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں