🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
200. باب صلاة المسافرين وقصرها
باب: مسافروں کی نماز اور اس کے قصر کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 401
401 صحيح حديث أَنَسٍ، قَالَ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ، فَكَانَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ حَتَّى رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَة سَأَلَهُ يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحقَ قَالَ: أَقَمْتُمْ بِمَكَّةَ شَيْئًا قَالَ أَقَمْنَا بِهَا عَشْرًا
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مکہ کے ارادے سے مدینہ سے نکلے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم برابر دو دو رکعت پڑھتے رہے یہاں تک کہ ہم مدینہ واپس آئے، یحییٰ بن ابی اسحاق کہتے ہیں: میں نے پوچھا کہ کیا آپ کا مکہ میں کچھ دن قیام بھی رہا تھا؟ تو اس کا جواب سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے یہ دیا کہ دس دن تک ہم وہاں ٹھہرتے تھے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 401]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 18 كتاب تقصير الصلاة: 1 باب ما جاء في التقصير وكم يقيم حتى يقصر»

الحكم على الحديث:
«صحیح»


Al-Lulu wal-Marjan Hadith 401 in Urdu