🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

203. باب جواز صلاة النافلة على الدابة في السفر حيث توجهت
باب: سواری پر نفل نماز پڑھنا چاہے اس کا رخ کدھر بھی ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 406
406 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي السَّفَرِ عَلَى رَاحِلَتِهِ حَيْثُ تَوَجَّهَتْ بِهِ، يُومِئُ إِيمَاءَ، صَلاَةَ اللَّيْلِ إِلاَّ الْفَرَائِضَ، وَيُوتِرُ عَلَى رَاحِلَتِهِ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں اپنی سواری ہی پر رات کی نماز اشاروں سے پڑھ لیتے تھے، خواہ سواری کا رخ کسی طرف ہو جاتا، آپ اشاروں سے پڑھتے رہتے، مگر فرائض اس طرح نہیں پڑھتے تھے اور وتر اپنی اونٹنی پر پڑھ لیتے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 406]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 14 كتاب الوتر: 6 باب الوتر في السفر»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 407
407 صحيح حديث عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى السُّبْحَةَ بِاللَّيْلِ فِي السَّفَرِ عَلَى ظَهْرِ رَاحِلَتِهِ حَيْتُ تَوَجَّهَتْ بِهِ
سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے خود دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (رات میں) سفر میں نفل نمازیں سواری پر پڑھتے تھے، وہ جدھر آپ کو لے جاتی ادھر ہی سہی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 407]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 18 كتاب تقصير الصلاة: 12 باب تطوع في السفر في غير دبر الصلاة وقبلها»
وضاحت: راوي حدیث: سیّدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سابقون اولون میں شمار ہوتے ہیں۔ آپ نے اپنی بیوی لیلیٰ بنت ابی خیثمہ کے ساتھ حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی۔ پھر مدینہ کی طرف ہجرت کی۔ بدر اور دیگر تمام غزوات میں شامل ہوئے۔خطاب نے انہیں متبنی بنا لیاتھا۔ جنگ جابیہ میں سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کا علم ان کے ہاتھ میں تھا۔متعدد احادیث کے راوی ہیں۔ شہادت عثمان رضی اللہ عنہ کے چند دن بعد ۳۵ ہجری کو وفات پائی۔

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 408
408 صحيح حديث أَنَسٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ: اسْتَقْبَلْنَا أَنَسًا حِينَ قَدِمَ مِنَ الشَّأمِ فَلَقِينَاهُ بِعَيْنِ التَّمْرِ، فَرَأَيْتُهُ يُصَلِّي عَلَى حِمَارٍ، وَوَجْهُهُ مِنْ ذَا الْجَانِبِ، يَعْنِي عَنْ يَسَارِ الْقِبْلَةِ، فَقُلْتُ: رَأَيْتُكَ تُصَلِّي لِغَيْرِ الْقِبْلَةِ، فَقَالَ: لَوْلاَ أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَهُ لَمْ أَفْعَلْهُ
انس بن سیرین رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ جب شام سے (حجاج کی خلیفہ سے شکایت کر کے) واپس ہوئے تو ہم ان سے مقامِ عین التمر میں ملے، ہم نے دیکھا کہ آپ رضی اللہ عنہ گدھے پر سوار ہو کر نماز پڑھ رہے تھے اور آپ کا چہرہ قبلہ سے بائیں طرف تھا، اس پر میں نے عرض کیا کہ میں نے آپ کو قبلہ کے علاوہ دوسری طرف رخ کر کے نماز پڑھتے دیکھا ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا: ”اگر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے نہ دیکھتا تو میں بھی ایسا نہ کرتا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 408]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 18 كتاب تقصير الصلاة: 10 باب صلاة التطوع على الحمار»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں