اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
202. باب الصلاة في الرحال في المطر
باب: بارش میں گھروں میں نماز پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 404
404 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ أَذَّنَ بِالصَّلاَةِ فِي لَيْلَةٍ ذَاتِ بَرْدٍ وَرِيحِ، ثُمَّ قَالَ: أَلاَ صَلُّوا فِي الرِّحَالِ ثُمَّ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُ الْمُؤَذِّنَ، إِذَا كَانَتْ لَيْلَةٌ ذاتُ بَرْدٍ وَمَطَرٍ، يَقُولُ: أَلاَ صَلُّوا فِي الرِّحَالِ
سیدنا نافع رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ سیّدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک ٹھنڈی اور برسات کی رات میں اذان دی، پھر یوں پکار کر کہہ دیا کہ لوگو اپنی قیام گاہوں پر ہی نماز پڑھ لو، پھر فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سردی و بارش کی راتوں میں مؤذن کو حکم دیتے تھے کہ وہ اعلان کر دے کہ ”لوگو اپنی قیام گاہوں پر ہی نماز پڑھ لو“۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 404]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 40 باب الرخصة في المطر والعلة، أن يصلي في رحله»
وضاحت: حدیث میں مذکور برد سے سخت سردی مراد ہے، مشقت کے یکساں موجود ہونے کی وجہ سے سخت گرمی بھی سردی کے حکم میں ہے۔ پھر بارش خواہ دن کو ہو یا رات کو حکم برابر ہے۔ لیکن آندھی تیز ہونے اور رات کے وقت چلنے کی شرط لگائی گئی ہے کیونکہ دن کی نسبت رات میں آندھی سے مشقت بڑھ جاتی ہے۔ سیّدنا ابن عمر رضی اللہ عنہمانے مشقت کو عموم پر محلول کرتے ہوئے آندھی کو بارش پر قیاس کیا ہے۔ گھروں میں نماز کی رخصت عام ہے خواہ اکیلے ادا ہو یا جماعت اگرچہ اکیلے کا امکان زیادہ ہے کیونکہ باجماعت نماز کا تعلق تو مسجد سے ہے۔
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 405
405 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لِمُؤَذِّنِهِ فِي يَوْمٍ مَطِيرٍ: إِذَا قُلْتَ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ فَلاَ تَقُلْ حَيَّ عَلَى الصَّلاَةِ، قُلْ صَلُّوا فِي بُيوتِكُمْ فَكَأَنَّ النَّاسَ اسْتَنْكَرُوا، قَالَ: فَعَلَهُ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي، إِنَّ الْجُمُعَةَ عَزْمَةٌ، وَإِنِّي كَرِهْتُ أَنْ أُحْرِجَكُمْ فَتَمْشُونَ فِي الطِّينِ وَالدَّحْضِ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنے مؤذن سے ایک دفعہ بارش کے دن کہا کہ «أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللّٰهِ» کے بعد «حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ» ”نماز کی طرف آؤ“ نہ کہنا بلکہ یہ کہنا کہ «صَلُّوا فِي بُيُوتِكُمْ» ”اپنے گھروں میں نماز پڑھ لو“، لوگوں نے اس بات پر تعجب کیا تو آپ نے فرمایا کہ اسی طرح مجھ سے بہتر انسان (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) نے کیا تھا، بے شک جمعہ فرض ہے اور میں مکروہ جانتا ہوں کہ تمہیں گھروں سے نکال کر مٹی اور کیچڑ (پھسلن) میں چلاؤں۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 405]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 11 كتاب الجمعة: 14 باب الرخصة لمن لم يحضر الجمعة في المطر»
وضاحت: سیّدنا ابن عباس رضی اللہ عنہماکا مطلب یہ تھا کہ بے شک جمعہ فرض ہے مگر حالت بارش میں یہ عزیمت رخصت سے بدل جاتی ہے۔ لہٰذا کیوں نہ اس رخصت سے تم کو فائدہ پہنچاؤں کہ تم کیچڑ میں پھسلنے اور بارش میں بھیگنے سے بچ جاؤ۔(راز)
الحكم على الحديث:
«صحیح»