🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

222. باب أمر من نعس في صلاته أو استعجم عليه القرآن أو الذكر بأن يرقد أو يقعد حتى يذهب عنه ذلك
باب: اونگھ کے وقت نماز پوری کر کے سو جانے کی اجازت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 448
448 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رضي الله عنه، قَالَ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا حَبْلٌ مَمْدُودٌ بَيْنَ السَّارِيَتَيْنِ؛ فَقَالَ: مَا هذَا الْحَبْلُ قَالُوا: هذَا حَبْلٌ لِزَيْنَبَ، فَإِذَا فَتَرَتْ تَعَلَّقَت فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لاَحُلُّوهُ، لِيُصَلِّ أَحَدُكُمْ نَشَاطَهُ، فَإِذَا فَتَرَ فَلْيَقْعُدْ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لے گئے، آپ کی نظر ایک رسی پر پڑی جو دو ستونوں کے درمیان تنی ہوئی تھی، دریافت فرمایا: ”یہ رسی کیسی ہے؟“ لوگوں نے عرض کی کہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے باندھی ہے، جب وہ (نماز میں کھڑی کھڑی) تھک جاتی ہیں تو اس سے لٹک رہتی ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔ یہ رسی نہیں ہونی چاہیے، اسے کھول ڈالو۔ تم میں سے ہر شخص کو چاہیے کہ جب تک دل لگے نماز پڑھے، جب تھک جائے تو بیٹھ جائے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 448]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 19 كتاب التهجد: 18 باب ما يكره من التشديد في العبادة»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 449
449 صحيح حديث عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا امْرَأَةٌ، قَالَ: مَنْ هذِهِ قَالَتْ: فُلاَنَةُ، تَذْكُرُ مِنْ صَلاَتِهَا، قَالَ: مَهْ عَلَيْكُمْ بِمَا تُطِيقُونَ، فَوَاللهِ لاَ يَمَلُّ اللهُ حَتَّى تَمَلُّوا وَكَانَ أَحَبَّ الدِّينِ إِلَيْهِ مَا دَاوَمَ عَلَيْهِ صَاحِبُهُ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (ایک دن) میرے پاس آئے، اس وقت ایک عورت میرے پاس بیٹھی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”یہ کون ہے؟“ میں نے عرض کیا: فلاں عورت، اور اس کی نماز (کے اشتیاق اور پابندی) کا ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھیر جاؤ (سن لو کہ) تم پر اتنا ہی عمل واجب ہے جتنے عمل کی تمہارے اندر طاقت ہے، خدا کی قسم! (ثواب دینے سے) اللہ نہیں اکتاتا مگر تم (عمل کرتے کرتے) اکتا جاؤ گے اور اللہ کو دین (کا) وہی (عمل) زیادہ پسند ہے جس کی ہمیشہ پابندی کی جا سکے (اور انسان بغیر اکتائے اسے انجام دے)۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 449]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 2 كتاب الإيمان: 32 باب أحب الدين إلى الله أدومه»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 450
450 صحيح حديث عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ وَهُوَ يُصَلِّي فَلْيَرْقُدْ حَتَّى يَذْهَبَ عَنْهُ النَّوْمُ، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا صَلَّى وَهُوَ نَاعِسٌ لاَ يَدْرِي لَعَلَّهُ يَسْتَغْفِرُ فَيَسُب نَفْسَهُ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب نماز پڑھتے وقت تم میں سے کسی کو اونگھ آ جائے تو چاہیے کہ وہ سو رہے یہاں تک کہ نیند کا اثر اس سے ختم ہو جائے۔ اس لیے کہ جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھنے لگے اور اونگھ رہا ہو تو وہ کچھ نہیں جانے گا کہ وہ اللہ سے مغفرت طلب کر رہا ہے یا اپنے نفس کو بددعا دے رہا ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 450]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 4 كتاب الوضوء: 53 باب الوضوء من النوم»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں