🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
222. باب أمر من نعس في صلاته أو استعجم عليه القرآن أو الذكر بأن يرقد أو يقعد حتى يذهب عنه ذلك
باب: اونگھ کے وقت نماز پوری کر کے سو جانے کی اجازت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 449
449 صحيح حديث عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا امْرَأَةٌ، قَالَ: مَنْ هذِهِ قَالَتْ: فُلاَنَةُ، تَذْكُرُ مِنْ صَلاَتِهَا، قَالَ: مَهْ عَلَيْكُمْ بِمَا تُطِيقُونَ، فَوَاللهِ لاَ يَمَلُّ اللهُ حَتَّى تَمَلُّوا وَكَانَ أَحَبَّ الدِّينِ إِلَيْهِ مَا دَاوَمَ عَلَيْهِ صَاحِبُهُ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (ایک دن) میرے پاس آئے، اس وقت ایک عورت میرے پاس بیٹھی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”یہ کون ہے؟“ میں نے عرض کیا: فلاں عورت، اور اس کی نماز (کے اشتیاق اور پابندی) کا ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھیر جاؤ (سن لو کہ) تم پر اتنا ہی عمل واجب ہے جتنے عمل کی تمہارے اندر طاقت ہے، خدا کی قسم! (ثواب دینے سے) اللہ نہیں اکتاتا مگر تم (عمل کرتے کرتے) اکتا جاؤ گے اور اللہ کو دین (کا) وہی (عمل) زیادہ پسند ہے جس کی ہمیشہ پابندی کی جا سکے (اور انسان بغیر اکتائے اسے انجام دے)۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 449]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 2 كتاب الإيمان: 32 باب أحب الدين إلى الله أدومه»

الحكم على الحديث:
«صحیح»


Al-Lulu wal-Marjan Hadith 449 in Urdu