صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
86. باب اخْتِبَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعْوَةَ الشَّفَاعَةِ لأُمَّتِهِ:
باب: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی امت کے لیے شفاعت کی دعا کا مؤخر کرنا۔
ترقیم عبدالباقی: 198 ترقیم شاملہ: -- 487
حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ يَدْعُوهَا، فَأُرِيدُ أَنْ أَخْتَبِئَ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".
مالک بن انس نے ابن شہاب سے خبر دی، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمن سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نبی کی ایک (یقینی) دعا ہے جو وہ مانگتا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ میں اپنی دعا کو قیامت کے دن اپنی امت کی سفارش کے لیے محفوظ رکھوں۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 487]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نبی کی ایک دعا ہے (جسے اللہ تعالیٰ یقینی طور پر قبول فرمائے گا) جسے وہ کرتا ہے، تو میں چاہتا ہوں کہ میں اپنی دعا کو قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لیے محفوظ رکھوں۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 487]
ترقیم فوادعبدالباقی: 198
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (15250)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 198 ترقیم شاملہ: -- 488
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَ زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ، وَأَرَدْتُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ أَنْ أَخْتَبِئَ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ "،
(مالک بن انس کے بجائے) ابن شہاب کے بھتیجے نے ابن شہاب سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے خبر دی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یقیناً ہر نبی کی ایک دعا ہے (جس کی قبولیت یقینی ہے۔) میں نے ارادہ کیا ہے کہ ان شاء اللہ میں اپنی اس دعا کو قیامت کے روز اپنی امت کی سفارش کرنے کے لیے محفوظ رکھوں گا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 488]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نبی کو ایک دعا کا حق حاصل ہے، اور میں نے ارادہ کیا ہے کہ ان شاء اللہ میں اپنی اس دعا کو قیامت کے روز اپنی امت کی شفاعت کے لیے محفوظ رکھوں گا۔“ (ان شاء اللہ کا لفظ محض تبرک اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے امتثال کے لیے ہے) [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 488]
ترقیم فوادعبدالباقی: 198
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (15253)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 198 ترقیم شاملہ: -- 489
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ أَسِيدِ بْنِ جَارِيَةَ الثَّقَفِيُّ ، مِثْلَ ذَلِكَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ابن شہاب کے بھتیجے نے ابن شہاب سے اور انہوں نے (ابوسلمہ کے بجائے) عمرو بن ابی سفیان بن اسید بن جاریہ ثقفی سے اسی کے مانند حدیث حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 489]
امام صاحب رحمہ اللہ مذکورہ بالا روایت ایک اور سند سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 489]
ترقیم فوادعبدالباقی: 198
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (14272)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 198 ترقیم شاملہ: -- 490
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ أَسِيدِ بْنِ جَارِيَةَ الثَّقَفِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ لِكَعْبِ الأَحْبَارِ: إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ يَدْعُوهَا، فَأَنَا أُرِيدُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ أَنْ أَخْتَبِئَ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ "، فَقَالَ كَعْبٌ لِأَبِي هُرَيْرَةَ: أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: نَعَمْ.
یونس نے ابن شہاب سے خبر دی کہ عمرو بن ابی سفیان ثقفی نے خبر دی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کعب احبار سے کہا: بلاشبہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نبی کی ایک (یقینی) دعا ہے جو وہ کرتا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ ان شاء اللہ میں اپنی دعا قیامت کے دن اپنی امت کی سفارش کے لیے محفوظ رکھوں۔“ اس پر کعب نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”آپ نے یہ فرمان (براہ راست) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا؟“ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ”ہاں!“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 490]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کعب احبار رحمہ اللہ سے کہا، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نبی کو ایک دعا کرنے کا حق حاصل ہے جسے وہ مانگتا ہے، تو میں چاہتا ہوں ان شاء اللہ میں اپنی دعا قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لیے چھپا رکھوں۔“ تو حضرت کعب رحمہ اللہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ نے یہ فرمان (براہ راست) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: جی ہاں! [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 490]
ترقیم فوادعبدالباقی: 198
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (14272)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 199 ترقیم شاملہ: -- 491
حَدَّثَنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وأَبُو كُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ مُسْتَجَابَةٌ، فَتَعَجَّلَ كُلُّ نَبِيٍّ دَعْوَتَهُ، وَإِنِّي اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَهِيَ نَائِلَةٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِي لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا ".
ابوصالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نبی کی ایک دعا ایسی ہے جو (یقینی طور پر) قبول کی جانے والی ہے۔ ہر نبی نے اپنی وہ دعا جلدی مانگ لی، جبکہ میں نے اپنی دعا قیامت کے دن اپنی امت کی سفارش کے لیے محفوظ کر لی ہے، چنانچہ یہ دعا ان شاء اللہ میری امت کے ہر اس فرد کو پہنچے گی جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتے ہوئے فوت ہوا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 491]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نبی کے لیے ایک مقبول دعا ہے اور میں نے اپنی دعا کو قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لیے چھپا رکھا ہے، جب کہ ہر نبی جلدی کرتے ہوئے (دنیا میں) دعا کر چکا ہے۔ میری شفاعت ہر اس انسان کو حاصل ہو گی ان شاء اللہ! جو میری امت سے اس حال میں فوت ہو گا کہ اس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا ہو گا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 491]
ترقیم فوادعبدالباقی: 199
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه الترمذي في ((جامعه)) في الدعوات، باب: فضل لاحول ولا قوة الا بالله برقم (3602) وابن ماجه في ((سننه)) في الزهد، باب: ذكر الشفاعة برقم (4307) انظر ((التحفة)) برقم (12512)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 199 ترقیم شاملہ: -- 492
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عُمَارَةَ وَهُوَ ابْنُ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ مُسْتَجَابَةٌ يَدْعُو بِهَا، فَيُسْتَجَابُ لَهُ فَيُؤْتَاهَا، وَإِنِّي اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".
ابوزرعہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نبی کے لیے ایک قبول کی جانے والی دعا ہے، وہ اسے مانگتا ہے تو (ضرور) قبول کی جاتی ہے اور وہ اسے عطا کر دی جاتی ہے۔ میں نے اپنی دعا قیامت کے دن اپنی امت کی سفارش کے لیے چھپا (بچا) کر رکھی ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 492]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نبی کے لیے ایک مقبول دعا ہے جو وہ کرتا ہے، اور وہ اس کی خاطر قبول ہوتی ہے، اور وہ اسے دی جاتی ہے، اور میں نے اپنی دعا قیامت کے دن اپنی امت کی سفارش کے لیے چھپا رکھی ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 492]
ترقیم فوادعبدالباقی: 199
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (14917)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 199 ترقیم شاملہ: -- 493
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ وَهُوَ ابْنُ زِيَادٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ دَعَا بِهَا فِي أُمَّتِهِ، فَاسْتُجِيبَ لَهُ، وَإِنِّي أُرِيدُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، أَنْ أُؤَخِّرَ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".
محمد بن زیاد نے کہا: میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نبی کی ایک دعا ہے جو اس نے اپنی امت کے بارے میں مانگی اور وہ اس کے لیے قبول ہوئی۔ اور میں چاہتا ہوں کہ ان شاء اللہ میں اپنی دعا کو قیامت کے دن اپنی امت کی سفارش کے لیے مؤخر کر دوں۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 493]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نبی کے لیے ایک دعا ہے، جو اس نے اپنی امت کے بارے میں مانگ لی ہے، اور وہ اس کے حق میں قبول ہو چکی ہے، اور میں چاہتا ہوں کہ ان شاء اللہ میں اپنی دعا کو قیامت کے دن اپنی امت کی سفارش کے لیے مؤخر کر دوں۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 493]
ترقیم فوادعبدالباقی: 199
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (14397)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 200 ترقیم شاملہ: -- 494
حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، ومُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وابْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَانَا وَاللَّفْظُ لِأَبِي غَسَّانَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا مُعَاذٌ يَعْنُونَ ابْنَ هِشَامٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ دَعَاهَا لِأُمَّتِهِ، وَإِنِّي اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".
ہشام نے قتادہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نبی کی ایک (یقینی مقبول) دعا ہے جو اس نے اپنی امت کے لیے کی، جبکہ میں نے اپنی دعا قیامت کے روز اپنی امت کی سفارش کے لیے محفوظ کر لی ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 494]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نبی کے لیے ایک دعا ہے، جو اس نے اپنی امت کے لیے کی ہے، اور میں نے اپنی دعا قیامت کے روز اپنی شفاعت کے لیے چھپا رکھی ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 494]
ترقیم فوادعبدالباقی: 200
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (1376)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 200 ترقیم شاملہ: -- 495
وحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وابْنُ أَبِي خَلَفٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الإِسْنَادِ.
مذکورہ بالا روایت (ہشام کے بجائے) شعبہ نے قتادہ سے باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 495]
امام صاحب رحمہ اللہ مذکورہ بالا روایت ایک اور سند سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 495]
ترقیم فوادعبدالباقی: 200
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (1285)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 200 ترقیم شاملہ: -- 496
ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ جَمِيعًا، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ وَكِيعٍ، قَالَ: قَالَ: أُعْطِيَ، وَفِي حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
وکیع اور ابواسامہ نے مسعر سے حدیث سنائی، انہوں نے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ یہی روایت بیان کی، اتنا فرق ہے کہ وکیع کی روایت کے الفاظ ہیں: ”آپ نے فرمایا: ’(ہر نبی کو ایک دعا) عطا کی گئی ہے‘“ اور ابواسامہ کی روایت کے الفاظ ہیں: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 496]
امام صاحب رحمہ اللہ مذکورہ روایت ایک اور سند سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 496]
ترقیم فوادعبدالباقی: 200
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (1333)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة