اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
341. باب جواز الصوم والفطر في شهر رمضان للمسافر في غير معصية إِذا كان سفره مرحلتين فأكثر
باب: رمضان میں مسافر کو افطار کی رخصت ہے بشرطیکہ اس کا سفر دو یا دو سے زیادہ مرحلوں پر مشتمل ہو
حدیث نمبر: 680
680 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى مَكَّةَ فِي رَمَضَانَ، فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ الْكَدِيدَ أَفْطَرَ، فَأَفْطَرَ النَّاسُ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (فتح مکہ کے موقع پر) مکہ کی طرف رمضان میں چلے تو آپ روزہ سے تھے، لیکن جب کدید پہنچے تو روزہ رکھنا چھوڑ دیا اور صحابہ رضی اللہ عنہم نے بھی آپ کو دیکھ کر روزہ چھوڑ دیا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصيام/حدیث: 680]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 30 كتاب الصوم: 34 باب إذا صام أياما من رمضان ثم سافر»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 681
681 صحيح حديث جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَرَأَى زِحَامًا وَرَجُلاً قَدْ ظُلِّلَ عَلَيْهِ؛ فَقَالَ: مَا هذَا فَقَالُوا: صَائمٌ فَقَالَ: لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصَّوْمُ فِي السَّفَرِ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر (غزوہ فتح) میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ ایک شخص پر لوگوں نے سایہ کر رکھا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا بات ہے؟“ لوگوں نے کہا کہ ایک روزہ دار ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سفر میں روزہ رکھنا کچھ اچھا کام نہیں ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصيام/حدیث: 681]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 30 كتاب الصوم: 36 باب قول النبي صلی اللہ علیہ وسلم لمن ظلل عليه واشتد الحر ليس من البر الصوم في السفر»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 682
682 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كُنَّا نُسَافِرُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَعِبِ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ، وَلاَ الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائمِ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (رمضان میں) سفر کیا کرتے تھے (سفر میں بہت سے روزے سے ہوتے اور بہت سے بے روزہ ہوتے) لیکن روزہ دار بے روزہ دار پر اور بے روزہ دار روزہ دار پر کسی قسم کی عیب جوئی نہیں کیا کرتے تھے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصيام/حدیث: 682]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري: 30 كتاب الصوم: 37 باب لم يعب أصحاب النبي صلی اللہ علیہ وسلم بعضاً في الصوم والإفطار»
الحكم على الحديث:
«صحیح»